سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 28

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 8 میں یہ حدیث ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے حقائق الفرقان میں quote کی ہے کہ حضرت نبی کریم کے روبرو دو شخص آئے کہ ہمیں کام سپر دیجئے ، ہم اس کے اہل ہیں۔ فرمایا: ” جن کو ہم حکم فرمادیں، خُدا اُن کی مدد کرتا ہے۔ جو خود کام کو اپنے سر پر لے، اس کی مدد نہیں ہوتی۔ پس تم عہدے اپنے لئے خود نہ مانگو۔ ( حقائق الفرقان جلد نمبر 2 صفحہ 30) کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتا ہے ۔۔۔ وہ اس کے پاس امانت ہے پھر عہدیداران ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے بلکہ جماعت کا ہر کارکن یہ بات یاد رکھے کہ اگر کسی دفتر میں کسی عہدیدار کے پاس کوئی معاملہ آتا ہے یا کسی کارکن کے علم میں کوئی معاملہ آتا ہے چاہے وہ ان کی نظر میں انتہائی چھوٹے سے چھوٹا معاملہ ہو۔ وہ اس کے پاس امانت ہے اور اس کو حق نہیں پہنچتا کہ اس سے آگے یہ معاملہ لوگوں تک پہنچے۔ ایک راز ہے ، ایک امانت ہے، پھر کسی کی کمزوریوں کو اچھالنا تو ویسے بھی ناپسندیدہ فعل ہے اور منع ہے بڑی سختی سے منع ہے۔ اور بعض دفعہ تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بات کا وجود ہی نہیں ہوتا اور وہ بات بازار میں گردش کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں کارکن نے فلاں سے بالکل اور رنگ میں کوئی بات کی تو جو کم از کم نہیں تو سو سے ضرب کھا کر باہر گردش کر رہی ہوتی ہے۔ تو جس کے متعلق بات کی جاتی ہے جب اس تک یہ بات پہنچتی ہے تو طبعی طور پر اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ اول تو بات اس طرح ہوتی نہیں اور اگر ہے بھی تو تمہیں کسی کی عزت اچھالنے کا کس نے اختیار دیا ہے۔ مشورہ ایک امانت ہے مشورہ ایک امانت ہے پھر مشورے ہیں اگر کوئی کسی عہدیدار سے یا کسی بھی شخص سے مشورہ کرتا ہے تو یہ بالکل ذاتی چیز ہے، ایک امانت ہے۔ تمہارے پاس ایک شخص مشورہ کے لئے آیا، تم نے اپنی عقل کے مطابق اسے مشورہ دیا تو تم نے امانت لوٹانے کا حق ادا کر دیا۔ اب تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ اس مشورہ لینے والے کی بات آگے کسی اور سے کرو۔ اور اگر کرو گے تو یہ