سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 285

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 265 ذریعہ جاری رکھنے کا بھی اس ذو العجائب اور قدیر ہستی کا وعدہ ہے اور اس کی تصدیق ہوتے ہوئے ایک دنیا نے حضرت مولانا نور الدین خلیفة المسیح الاول کے انتخاب خلافت کے وقت دیکھی۔ باوجود اس کے کہ مخالفین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ ایک منظم جماعت کو دیکھ رہے تھے، باوجود اس کے کہ وہ خلافت کے قیام کا نظارہ دیکھ چکے تھے لیکن انہوں نے جماعت کو ، اس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے قائم کردہ جماعت تھی ایک منظم کوشش کے تحت توڑنے کی کوشش کی جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا: اذْكُرُ نِعْمَتِي - غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي “ (تذکرہ صفحہ 428) ترجمہ : میری نعمت کو یاد کر۔ میں نے تیرے لئے اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور اپنی قدرت کا درخت لگا دیا ہے۔ پس اس وعدہ کے مطابق وہ ہمیشہ کی طرح ناکام ہوئے گو کہ یہاں تک مخالفت کی شدت میں بڑھے کہ ایک اخبار نے لکھا: ہم سے کوئی پوچھے تو ہم خدا لگتی کہنے کو تیار ہیں کہ مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا کی گل کتابیں سمندر میں نہیں کسی جلتے تنور میں جھونک دیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مؤرخ تاریخ ہند یا تاریخ اسلام میں ان کا نام تک نہ لے۔“(اخبار وکیل‘ امر تسر 13 جون 1908ء۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 205-206) لیکن آج تاریخ احمدیت گواہ ہے، دنیا جانتی ہے کہ ان کا نام لیوا تو کوئی نہیں لیکن خلافت کی برکت سے احمدیت دنیا میں پھول پھل رہی ہے اور کروڑوں اس کے نام لیوا ہیں۔ اپنی بیہودہ گوئیوں میں یہاں تک بڑھے کہ ایک اخبار کر زن گزٹ “ میں لکھا جسے حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے اپنی پہلی جلسہ کی تقریر میں بیان کیا کہ : اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ ان کا سر کٹ چکا ہے۔ ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اُس سے تو کچھ ہو گا نہیں۔ ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ (221) حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے فرمایا سبحان اللہ یہی تو کام ہے۔ خدا توفیق دے۔ بد قسمتی