سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 286
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 266 سے جماعت کے بعض سر کر دہ بھی خلافت کے مقام کو نہ سمجھے۔ سازشیں ہوتی رہیں لیکن خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پو دا بڑھتا رہا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق محبوں کی جماعت بڑھتی رہی اور کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کار گر نہ ہوئی۔ پھر خلافت ثانیہ کا دور آیا تو بعض سر کردہ انجمن کے ممبر ان کھل کر مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے لیکن وہ تمام سر کردہ علم کے زعم سے بھرے ہوئے، تجربہ کار پڑھے لکھے اس پچیس سالہ جو ان کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور اس نے جماعت کی تنظیم ، تبلیغ، تربیت، علوم و معرفت قرآن میں وہ مقام پیدا کیا کہ کوئی اس کے مقابل ٹھہر نہ سکا۔ جماعت پر پریشانی اور مخالفتوں کے بڑے دور آئے لیکن خلافت کی برکت سے جماعت ان میں کامیابی کے ساتھ گزرتی چلی گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے باون سالہ دور خلافت کے حالات پڑھیں تو پتہ چلے کہ اس پسر جری اللہ نے کیا کیا کا رہائے نمایاں انجام دیئے۔ دنیائے احمدیت میں حضرت مصلح موعودؓ کی وفات کے بعد پھر ایک مرتبہ خوف کی حالت طاری ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اسے چند گھنٹوں میں امن میں بدل کر قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر کا روشن چاند جماعت کو عطا فرمایا۔ حکومتوں کے ٹکرانے کے باوجود، ظالمانہ قوانین کے اجراء کے بعد تمام مسلمان فرقوں کی منظم کوشش کے باوجود، یہ قافلہ ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیا۔ پیار و محبت کے نعرے لگاتا ہوا، غریب اقوام کے غریب عوام کی خدمت کرتے ہوئے، انہیں رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرتا چلا گیا۔ پھر وہ وقت آیا کہ الہی تقدیر کے ماتحت حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ بھی اپنے پیدا کرنے والے کے حضور حاضر ہو گئے۔ پھر اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اٹھایا لیکن خدائی وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ کو خلافت رابعہ کی صورت میں تمکنت دین عطا ہوئی۔ ہر فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔ ظالمانہ قانون کے تحت ہاتھ پاؤں باندھنے والوں اور احمدیت کے کینسر “ کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو خدا تعالیٰ نے نیست و نابود کر دیا۔ پاکستان میں ظالمانہ قانون کی وجہ سے خلیفہ وقت کو