سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 284
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 264 خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔“ (رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد 306-30520 پس جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا وہ وقت بھی آگیا جب آپ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے اور ہر احمدی کا دل خوف و غم سے بھر گیا لیکن مومنین کی دعاؤں سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کرتے ہوئے زمین و آسمان نے پھر ایک بار وَلَيُبَدِّ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آشنا ( النور : 56) کا نظارہ دیکھا۔ وہ عظیم انقلاب جو آپ نے اپنی بعثت کے ساتھ پیدا کیا تھا اسے اللہ تعالیٰ نے خلافت کے عظیم نظام کے ذریعہ جاری رکھا۔ آپ کی وفات پر اخبار وکیل میں مولانا ابوالکلام آزاد نے یوں رقم فرمایا: دو ” وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص جو دما شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا۔ جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔ جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا۔۔۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مٹانے کے لئے اسے امتداد زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جائے۔ ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دن مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔ “ ( اخبار ”وکیل“ امر تسر بحوالہ تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 560) پس اس انقلاب کا اعتراف غیروں کی زبان اور قلم سے نکلوا کر اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کا خاص تائید یافتہ تھا لیکن غیر کی نظر اس طرف نہ گئی کہ وہ تائید یافتہ جس انقلاب کو بر پا کر گیا ہے اس انقلاب کو آپ کی پیروی کرنے والوں کے ذریعہ سے نعمت خلافت کے