سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 27

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول سے خواہ 7 ہر احمدی ۔۔۔ اپنی امانتوں کی صحیح ادائیگی کرے ۔۔۔ ”ہمارے نظام جماعت میں عہدیداروں کا نظام مختلف سطحوں پر ہے۔ اس زمانے میں ہر احمدی جہاں، جس ملک میں رہتا ہے اس ملک میں دنیاوی سطح پر امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ان تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا فرض ہے کہ اپنے اس فرض کی صحیح ادائیگی کرے اور حق دار لوگوں تک اس امانت کو پہنچائے وہاں نظام جماعت بھی ہر احمدی خواہ عہدیدار ہو یا عام احمدی اس سے اس سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی امانتوں کی صحیح ادائیگی کرے۔ اب سب سے پہلے تو افراد جماعت ہیں جو نظام جماعت چلانے کے لئے عہدیدار منتخب کرتے ہیں۔ ان کا کیا فرض ہے، انہوں نے کس طرح جماعت کی اس امانت کو جو ان کے سپرد کی گئی ہے صحیح حقداروں تک پہنچانا ہے۔ تو اس کے لئے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں انتخابات سے پہلے قواعد بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں، عموماً یہ جماعتی روایت ہے۔ دعا کر کے اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر آپ کس کو ووٹ دیتے ہیں یا کم از کم یہی ایک متقی کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کو ووٹ دیا جائے جو آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا ہے۔ جس عہدے کے۔ ہدے کے لئے منتخب ہو رہا ہے اس کا کچھ نہ کچھ علم بھی اس کو ہو ۔ پھر جماعت ۔ کاموں کے لئے وقت بھی دے سکتا ہو۔ جس حد تک اس کی طاقت میں ہے وقت کی قربانی بھی دے سکتا ہو۔ پھر صرف اس لئے کسی کو عہدیدار نہ بنائیں کہ وہ آپ کا عزیز ہے یا دوست ہے اور اتنا مصروف ہے کہ جماعتی کاموں کے لئے وقت نکالنا مشکل ہے لیکن عزیز اور دوست ہونے کی وجہ سے اس کو عہد یدار بنانے کی کوشش کی جائے۔ تو یہ ہے امانت کے حقدار کو امانت کو صحیح طرح نہ پہنچانا۔ اس نیت سے جب انتخابات ہوں گے کہ صحیح حقدار کو یہ امانت پہنچائی جائے تو اس میں برکت بھی پڑے گی، انشاء اللہ۔ اور اللہ سے مدد مانگنے والے ، نہ کہ اپنے اوپر ناز کرنے والے، اپنے آپ کو کسی قابل سمجھنے والے عہدیدار اوپر آئیں گے اور جن کے ہر کام میں عاجزی ظاہر ہوتی ہو گی اور یہی لوگ آپ کے حقوق کا صحیح خیال رکھنے والے بھی ہوں گے اور نظام جماعت کو صحیح نہیچ پر چلانے والے بھی ہوں گے۔ بعض دفعہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں عہدیدار بناؤ۔ ان کے بارہ کے