سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 273

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 253 تنظیمیں جو بنائی گئی ہیں ان کا مقصد یہ تھا کہ ہر تنظیم اپنی اپنی ذمہ داری سمجھے۔ اگر لجنہ میں کمی ہے تو انصار سے پوری ہو ، اگر انصار میں کمی ہے خدام سے پوری ہو، خدام کی کمی ہے انصار پوری کریں۔ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوں اور جب پھر جماعتی طور پر کمزوری ہے تو ذیلی تنظیمیں اس کو پورا کر رہی ہوں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام active ہو جائے تو ہمارے جو ترقی کے قدم ہیں وہ کئی گنا بڑھ جائیں۔ قرآن کریم کا پڑھنا، پڑھانا، یہ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بچوں کی نگرانی کرنا انصار کی بھی ذمہ داری ہے۔ پھر قرآن کریم کی تلاوت ہے۔ قرآن کریم کا پڑھنا، پڑھانا، یہ انصار اللہ کی ذمہ داری ہے۔ اس بارہ میں خطبے میں میں تفصیل سے بتا چکاہوں۔ دوسال پہلے آپ نے اس کا پروگرام بھی بنایا تھا۔ پروگرام تو بڑا اچھا بنا تھا مجھے نہیں پتہ کس حد تک اس پر عمل ہو رہا ہے۔ قرآن کریم پڑھانے کا انٹر نیٹ کے ذریعہ سے ایک نظام بھی شروع کروایا تھا وہ بھی جاری رہنا چاہیے لیکن اس میں بھی جو شرکت ہے وہ بہت کم ہے۔ پھر اس کے علاوہ آمنے سامنے بیٹھ کے جو کلاسیں لگتی ہیں وہ مجالس میں لگنی چاہئیں، گھروں میں لگنی چاہئیں۔ پھر آپ انصار میں بہت سے ایسے ہیں جو اردو پڑھنا جانتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے اقتباسات کا درس اگر گھروں میں دینا شروع کر دیں تو آپ لوگوں کے بچوں کو پتہ لگے کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کیا تھی ؟ کیا روح وہ ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے اور کس طرح ہم نے اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کرنی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک تو مسجد میں درس ہوتا ہے یا نماز سنٹر میں درس ہوتا ہے، لیکن بہت سے ایسے ہیں جو فاصلے کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتے یا باقاعدگی سے نہیں جاسکتے۔ اگر پانچ سات منٹ کا درس کا نظام گھروں میں شروع ہو جائے تو اس کا بہت فائدہ ہو گا۔ جو اردو پڑھنا نہیں جانتے انگلش پڑھنے والے ہیں وہEssence Of Islam سے ایک پیرا یا چند لائنیں اپنے اپنے گھروں میں درس دیں، اقتباسات پڑھ کر سنائیں، مختلف عنوانات کے تحت پڑھ کر سنائیں تو ایک شوق پیدا ہو گا۔