سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 272
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 252 اگر ذیلی تنظیمیں اور جماعتی نظام فعال ہو جائیں تو ہماری ترقی کے قدم کئی گنا بڑھ جائیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد و تعوذ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ: "ریفریشر کورسز میں عموماً اتنی formal تقریریں یا address تو نہیں ہوتا اور میرا بھی خیال تھا کہ یہاں جو رپورٹ ہو گی ذرا تفصیل سے ہو گی اور میں دیکھوں گا کہ کس حد تک انصار اللہ مختلف اپنی اپنی زعامتوں میں جو ان کے سپر د کام ہیں ان کو سر انجام دے رہی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انصار اللہ کی تنظیم کے بارہ میں عموماً یہ تاثر ہوتا ہے، اور یہ آج کا نہیں بڑا پرانا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب ایک خادم انصار اللہ کی تنظیم میں قدم رکھتا ہے یعنی چالیس سال کے اوپر بڑھتا ہے تو وہ ایک دم سست کیوں ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ایک دن کا عمر کا فرق پڑا ہوتا ہے۔ تو انصار اللہ کا نام بھی اسی سوچ کے ساتھ رکھا گیا تھا کہ یہ نہ سمجھیں کہ آپ اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔ اللہ کے انصار بننے والے یہ سوچ نہیں رکھتے۔ انصار اللہ کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ نمازوں کی ذمہ داری سنبھالیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عموماً میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے یوکے (۔U۔K) میں انصار کی بہت تعداد ایسی ہے جو اس سوچ کے رکھنے والے نہیں ہیں لیکن پھر بھی میں کہتا ہوں کہ وہ اتنے active نہیں جتنا ہونا چاہیے۔ اگر انصار اللہ کی تنظیم مستعد ہو جائے تو جس طرح میں مختلف خطبات میں انصار اللہ کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ نمازوں کی ذمہ داری سنبھالیں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور اپنے گھروں کی نمازوں کی بھی حفاظت کریں اور گھروں کی نمازوں کی حفاظت یہی ہے کہ اپنے بچوں کو دیکھیں، خاص طور پر لڑکوں کو جو خدام کی عمر کو پہنچے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ خدام الاحمدیہ بھی اس طرف توجہ کر رہی ہے لیکن اگر انصار والدین ان کی نگرانی نہیں کریں گے تو اس کا اتنا اثر نہیں ہو گا۔ اس لئے ساری