سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 260
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 240 کیا کریں۔ آپ نے ان واقعین نو کی تربیت کرنی ہے تو آپ کو اپنا عملی نمونہ ان کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔ روزانہ کچھ رکوع تلاوت ضرور کیا کریں کوئی وقت اس کے لئے مقرر کریں سب سے اچھا وقت تو فجر کی نماز کے بعد ہے۔ اس لئے کوشش کریں کہ فجر کے بعد اس کا التزام ہو۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے بھی تلاوت قرآن کریم کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ” پرستش کی جڑھ تلاوتِ قرآنِ الہی ہے کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور سچے محب کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورش عشق پیدا کرتا ہے۔“(سرمۂ چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 283) نیز فرماتے ہیں: ”میں بار بار اس امر کی طرف ان لوگوں کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کشف حقائق کے لئے قائم کیا ہے۔ کیونکہ بدوں اس کے عملی زندگی میں کوئی روشنی اور نور پیدا نہیں ہو سکتا اور میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعہ اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو۔ اس لئے قرآن شریف کو کثرت سے پڑھو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 155) اللہ تعالیٰ آپ میں سے ہر ایک کو خود بھی تلاوت کریم کرنے، اس کے مطالب سیکھنے اور سمجھنے کی توفیق دے اور اپنی اولادوں کو بھی اس پر کار بند کرنے کی توفیق دے۔ تیسری ذمہ داری جس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ بچوں کی تربیت ہے۔ یہ بھی انصار اللہ کا کام ہے کہ وہ احمدی بچوں کی تربیت کی فکر کریں۔ جیسا کہ میں نے نماز اور تلاوت قرآن کریم کا ذکر کیا ہے۔ اگر ان دو امور پر احمدی بچے قائم ہو جائیں تو ان کی احسن تربیت ہو گی۔ وہ یورپ کے گند اور دنیاوی آلائشوں سے پاک ہو جائیں گے۔ تربیت کے مضمون میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ماں باپ جتنی مرضی زبانی تربیت کریں اگر ان کا اپنا نمونہ اور کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچوں کی تربیت نہیں ہو سکتی۔ بچے کمزور پہلو کو لے لیں گے اور مضبوط پہلو کو چھوڑ دیں گے۔ اس لئے آپ کو اپنا عملی نمونہ پیش کرنا ہو گا۔ نمازوں پر قائم ہونا پڑے گا۔ تلاوت قرآن کریم کا روزانہ اہتمام کرنا ہو گا۔ گھروں میں پاکیزہ ماحول اور پاکیزہ باتیں رواج دینی ہوں