سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 259

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 239 جاؤ تو بے خوف اور نڈر ہو جاؤ۔ نہیں بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہیے۔ ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو کہ اس سے خدا راضی ہو گا یا ناراض۔ نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعامانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لئے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں۔ بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں۔ یہ کچھ نہیں۔ نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اُس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔ اس کی نماز ہر گز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصد کو مد نظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔ پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔ کھڑے ہو تو اس طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتا دے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعا کرو۔“ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 247-248) پس حضرت مسیح موعود نے نماز کی ادائیگی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور میں آپ کو ذکر فَإِنَّ الذِّكْرَ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ (الذاریات : 56) کے تحت یاد دہانی کرواتا ہوں کہ انصار اللہ نے نمازوں کے قیام کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔ خود بھی پنجوقتہ نمازوں پر قائم ہوں اور اپنی بیویوں اور اولادوں کو بھی اس کا عادی بنائیں۔ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کریں اور انہیں ہرگز ضائع نہ کریں۔ نمازیں بار بار پڑھیں اور اس خیال سے پڑھیں کہ آپ ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑے ہیں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے۔ یہ آپ کی نسلوں کی روحانی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ دنیا کے گند اور آلائشوں سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ یہ سیئات کو دور کرتی ہے۔ دوسری اہم ذمہ داری انصار اللہ کی یہ ہے کہ وہ خود بھی قرآن کریم سیکھیں اور اپنی اولادوں کو بھی سکھائیں۔ اور پھر ہر گھر میں تلاوت قرآن کا اہتمام اور التزام ہو۔ اگر آپ خود روزانہ اس کی تلاوت کریں گے تو آپ کے بچے اس سے نیک اثر لیتے ہوئے تلاوت کے عادی بن جائیں گے۔ میں نے واقفین نو بچوں کو یہ ہدایت کی ہوئی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دور کوع کی تلاوت