سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 25 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 25

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 5 عہدیداران کے خلاف گھروں میں باتیں نہ کریں پھر یہ بات واضح کروں کہ کسی بھی قسم کی برائی دل میں تب راہ پاتی ہے جب اس کے اچھے یا برے ہونے کی تمیز اُٹھ جائے۔ بعض دفعہ ظاہراً ہر قسم کی نیکی ایک شخص کر رہا ہوتا ہے۔ نمازیں بھی پڑھ رہا ہے ، مسجد جا رہا ہے ، لوگوں سے اخلاق سے بھی پیش آ رہا ہے لیکن نظام جماعت کے کسی فرد سے کسی وجہ سے ہلکا سا شکوہ بھی پیدا ہو جائے یا اپنی مرضی کا کوئی فیصلہ نہ ہو تو پہلے تو اس عہدیدار کے خلاف دل میں ایک رنجش پیدا ہوتی ہے۔ پھر نظام کے بارہ میں کہیں ہلکا سا کوئی فقرہ کہہ دیا، اس عہدیدار کی وجہ سے۔ پھر گھر میں بچوں کے سامنے بیوی سے یا کسی اور عزیز سے کوئی بات کر لی تو اس طرح اس ماحول میں بچوں کے ذہنوں سے بھی نظام کا احترام اٹھ جاتا ہے۔ اس احترام کو قائم کرنے کے لئے بہر حال بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے الفاظ میں یہ نصیحت آپ تک پہنچاتا ہوں: بہت ضروری ہے کہ واقفین نو کو نظام کا احترام سکھایا جائے۔ پھر اپنے گھروں میں کبھی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے نظام جماعت کی تخفیف ہوتی ہو یا کسی عہدیدار کے خلاف شکوہ ہو۔ وہ شکوہ اگر سچا بھی ہے پھر بھی اگر آپ نے اپنے گھر میں کیا تو آپ کے بچے ہمیشہ کے لئے اس سے زخمی ہو جائیں گے۔ آپ تو شکوہ کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں لیکن آپ کے بچے زیادہ گہر از خم محسوس کریں گے۔ یہ ایسا زخم ہوا کرتا ہے کہ جس کو لگتا ہے اس کو کم لگتا ہے ، جو قریب کا دیکھنے والا ہے اُس کو زیادہ لگتا ہے۔ اس لئے اکثر وہ لوگ جو نظام جماعت پر تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں ، ان کی اولادوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔ واقفین بچوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری توقعات اس کے متعلق کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، اس کے نتیجے میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ان کو سمجھائیں کہ اصل محبت تو خدا اور اس کے دین سے ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے خدائی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔ آپ کو اگر