سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 236
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 216 جس قدر آپ کا خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق ہو گا اسی قدر آپ دینی و دنیاوی حسنات سے حصہ پائیں گے پیارے ممبران مجلس انصار اللہ بھارت السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مکرم صدر صاحب انصار اللہ بھارت نے سالانہ اجتماع کے موقع پر پیغام بھجوانے کے لئے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ اجتماع ہر لحاظ سے خیر و برکت کا موجب بنائے ۔ آپ سب کو اس سے بھر پور استفادہ کرنے اور آپ کی روحانی تربیت کے سامان پیدا فرمائے۔ آمین۔ اس موقع پر میں آپ کو خلافت سے وابستگی اور اطاعت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ آج دنیا سخت بدامنی کا شکار ہے۔ مسلمان مسلمان سے لڑ رہا ہے مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر وہ ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کا شکار ہیں۔ ایک ہی کلمہ پڑھنے والے، ایک ہی نبی کی طرف منسوب ہونے والے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث کے خزانے موجود ہونے کے باوجود آج مسلمان اس قیادت کی پہچان سے محروم ہیں جو خدا نے انہیں ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے مامور فرمائی ہے۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ کو حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے صدقے نظام خلافت سے وابستگی کی توفیق عطا ہوئی ہے جو خدا کے فضل سے دائمی ہے۔ جس قدر آپ کا خلیفہ وقت سے ذاتی تعلق ہو گا اسی قدر آپ دینی و دنیاوی حسنات سے حصہ پائیں گے ، آپ کے آپس کے تعلقات میں بہتری آئے گی، معاشرے میں بھی امن کی فضا قائم ہو گی۔ اس لئے عافیت کے اس حصار سے فیض پانے کے لئے آپ سب کو خلافت سے اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہو گا ، غلبہ اسلام اور امن عالم کے لئے دعائیں کرنا ہوں گی، اپنے اطاعت کے معیار کو بلند کرنا ہو گا اور اپنے عہدیداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خلافت کے دست و بازو اور خلیفہ وقت کے لئے سلطان نصیر بننا ہو گا۔ اطاعت کا مضمون بہت اہم ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف موقعوں پر اس کی اہمیت اور افادیت بیان فرمائی ہے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ : ”جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“