سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 233

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 213 گی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے بچوں کو بھی تعلیم دیتے رہیں تاکہ اسلام کے لیے ان کے ذہن کھل جائیں اور ان معاشروں سے ان کے ذہنوں میں اسلام کے متعلق جو غلط نظریات پیدا ہو سکتے ہیں انہیں ان کے ذہنوں سے دور کریں۔ پھر ہر جگہ کے لئے ان کے مناسب حال انہی کی زبانوں میں لٹریچر تیار کریں۔ مختلف قومیتوں کے مزاج مختلف ہیں عربوں میں بھی سارے ایک جیسے نہیں۔ مختلف ممالک کے لوگ مختلف مزاج رکھنے والے ہیں۔ ان سب سے علیحدہ علیحدہ اپروچ ہونی چاہیے۔ فرمایا سب کو ایک دفعہ تو ہمیں تعارف کروادینا چاہیے تا کہ اتمام حجت تو ہو۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قائد صاحب وصایا سے مجلس عاملہ کے ممبر ان کی وصایا کی بابت دریافت فرمایا تو بتایا گیا کہ سوائے ایک کے باقی میں سے سات تو پہلے موصی تھے مزید آٹھ اب شامل ہوئے ہیں۔ ایک باقی ہیں ان کا فارم بھی جلد مل جائے گا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سب سے پہلے عہدیداروں کو ، ناظمین، زعماء سب کو تحریک کریں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے شعبہ عمومی کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ جو رپورٹ نہیں بھیجتے انہیں پوچھا کریں۔ پھر یہ بھی دیکھا کریں کہ یہ نہ ہو رپورٹ میں figures کو تدریجی بڑھایا جا رہا ہو اور نئے سال کی پہلی رپورٹ سے پھر ان figures کو پیچھے لا کر پہلے کی طرح انہیں زیادہ کیا جارہا ہو۔ نئے سال میں داخل ہو کر پچھلے سال کے figures بڑھنے چاہئیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک سوال کے جواب میں مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ کو فرمایا کہ جو قائدین با وجود توجہ دلانے کے پھر بھی رپورٹ نہ بھجوائیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ فرمایا جن کی مسلسل تین ماہ کی رپورٹ نہ آئی ہوا نہیں فارغ کر کے ان کی جگہ نئے آدمی nominate کریں۔ اس موقع پر مکرم امیر صاحب جرمنی نے عرض کی کہ کیا انہیں پہلے وار ننگ نہیں دینی چاہیے؟ فرمایا انہیں پہلے سے خبر دار کرنا چاہیے کہ اپنی سستی دور کریں ورنہ پھر آپ اس خدمت سے محروم کر دیئے جائیں گے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہمارا ایک چیریٹی واک (charity walk) کا پروگرام بھی ہے۔ فرمایا: