سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 230
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 210 عام ہیں اور خاص طور پر ہمارے بر صغیر پاک و ہند کے معاشرے میں تو یہ اور بھی زیادہ عام چیز ہے۔ اور اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی بعض دفعہ ایسی گھٹیا سوچ رکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں یہ لوگ کہیں بھی چلے جائیں اپنے اس گندے character کی کبھی اصلاح نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے اور آج کل کے اس معاشرے میں جبکہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے، غیروں سے گھلنے ملنے کی وجہ سے ان برائیوں میں جن کو ہمارے بڑوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ترک کیا تھا بعضوں کی اولادیں سے متاثر ہو رہی ہے رہی ہیں۔ ہمارے احمدی معاشرہ میں ہر سطح پر یہ کوشش ہونی ہونی چاہیے کہ احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے۔ اس لئے ہر سطح پر جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ خاص طور پر یہ برائیاں، حسد ہے ، بد گمانی ہے، بدظنی ہے، دوسرے پر عیب لگانا ہے اور جھوٹ ہے اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کوشش کی اس جائے، ایک مہم چلائی جائے۔“ 66 (خطبہ جمعہ فرموده 26 مئی 2006 ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 255-256)