سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 229

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول دو 209 احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بد ظنی کی وجہ سے اس حد تک اپنے دلوں میں کینے پالنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے شخص کا مقام اوروں کی نظر میں گرانے کے لئے، معاشرے میں انہیں ذلیل کرنے کے لئے ، رسوا کرنے کے لئے ، ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر کے پھر اس کی تشہیر شروع کر دیتے ہیں اور اس بات سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی باتیں مجھے پہنچائیں تاکہ اگر کوئی کارکن یا اچھا کام کرنے والا ہے تو اس کو میری نظروں میں گر اسکیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ بڑے اعتماد سے بعض لوگوں کے نام گواہوں کے طور پر بھی پیش کر دیتے ہیں اور جب ان گواہوں سے پوچھو ، گواہی لو، تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ گواہ بیچارے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں جس کی گواہی ڈلوانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔ اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ میں ان جھوٹی باتوں پر یقین کر کے جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے ضرور اسے سزا بھی دوں۔ گویا یہ شکایت نہیں ہوتی ایک طرح کا حکم ہوتا ہے۔ بہت سی شکایات درست بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اکثر جو ذاتی نوعیت کی شکایات ہوتی ہیں وہ اس بات پر زور دیتے ہوئے آتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص مجرم ہے اور اس کو فوری پکڑیں۔ ان باتوں پر میں خود بھی کھٹکتا ہوں کہ یہ شکایت کرنے والے خود ہی کہیں غلطی کرنے والے تو نہیں ، اس کے پیچھے دوسرے شخص کے خلاف کہیں حسد تو کام نہیں کر رہا۔ اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ حسد کی وجہ سے یہ کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچایا جائے۔ یہ حسد بھی اکثر احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، اس خیال کے دل میں نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ خدا جھوٹے اور حاسد کی مدد نہیں کرتا۔ اور حسد کی وجہ سے یا بد ظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے ۔ آج کل کے معاشرے میں یہ چیزیں