سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 224

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 204 کی غلطی پر مرکز کو بھی پوری طرح واضح نہ کر کے ، لا علم رکھ کر اتنی سزانہ دلوائیں کہ وہ سزا اس جرم سے بھی زیادہ بڑھ جائے اور بے چارے کو مار کر ہی دم لیں۔ ایک احمدی کے لیے چاہے وہ جیسا بھی ہو نظام جماعت سے علیحدگی اور خلیفہ وقت کی ناراضگی موت سے کم نہیں ہوتی۔ پس عہدیداروں کو اپنے رویے بدلنے چاہئیں۔ امیر جماعت کو اپنے رویے بدلنے چاہئیں۔ اس بارہ میں پہلے بھی میں خطبات میں کہہ چکا ہوں۔ یا تو یہ عہدیدار خطبات سنتے نہیں ہیں یا وہ باتیں اپنے لیے نہیں سمجھتے یا مغلوب الغضب ہو کر ان باتوں کو بھول جاتے ہیں اور اپنی اناؤں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر کسی کے خلاف سچی شکایت ہو تو میں اس کے بارہ میں بات کر رہا ہوں کہ اس کو اتنی ہی سزا ہونی چاہیے۔ اگر جھوٹی شکایت ہو اور صرف اپنی انانیت کی خاطر کسی کو سزا دلوائی جاتی ہے تو یہ اس حدیث کے مطابق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے اپنے حق میں میرے سے فیصلہ کر والیتا ہے اور دوسرے کا حق مارتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں آگ کا گولہ ڈالتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الشهادات باب من اقام البينة بعد اليمين حديث (2680) اگر آپ لوگ بھی خلیفہ وقت سے کسی کے خلاف ایسے فیصلے کروا لیتے ہیں تو آگ کا ٹکڑا اپنے پیٹ میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے فیصلے کروانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہمدردی کے جذبات سے پر ہو کر سزا بھی دلوانی ہو تو اصلاح کی خاطر سزا دلوانی چاہیے نہ کہ اپنے کینوں اور بعضوں کی تسکین کے لیے۔ پس یہ ہمدردی اور رحم کے جو جذبات ہیں عہدیدار بھی اپنے اندر پیدا کریں اور عام احمدی بھی اپنے اندر پیدا کریں۔ ہر احمدی کے آپس کے تعلقات بھی ایسے ہوں جو ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے والے ہوں۔ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں۔ کسی کو ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ نہ بنائیں۔ یہ باتیں ہمدردی سے دور لے جانے والی ہیں۔ اس سے معاشرے میں فساد اور فتنہ پیدا ہوتا ہے۔“ ( خطاب بر موقع جلسہ سالانہ جاپان مورخہ 13 مئی 2006 ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 21 دسمبر 2012ء)