سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 223

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول دو 203 نظام جماعت سے علیحدگی اور خلیفہ وقت کی ناراضگی موت سے کم نہیں ہوتی پس اپنے پیغام کو ، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے خوبصورت پیغام کو اگر حقیقی طور پر اس ملک میں پھیلانا چاہتے ہیں تو آپس میں محبت اور بھائی چارے اور ہمدردی کی فضا پیدا کریں۔ اگر نہیں تو اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دیکھ کر اگر کوئی احمدیت میں شامل ہو بھی جاتا ہے تو کل اپنے ساتھ مختلف سلوک دیکھ کر دین سے متنفر بھی ہو سکتا ہے اور اگر کوئی شخص مرد یا عورت آپ عہدیداروں، چاہے وہ امیر ہو یا کوئی بھی اور ہو، یا ایک عام احمدی بھی ہو آپ لوگوں کے عمل اور رویے دیکھ کر اور اپنے ذاتی مفادات کی ترجیحات کو دیکھتے ہوئے دین سے متنفر ہوتا ہے تو اس کا گناہ ان دوڑانے والوں کے سر پر ہے۔ پس میں عہدیداروں کو چاہے وہ امیر ہوں یا کوئی دوسرے عہدیدار ہوں پہلے کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خدمت کا جو یہ موقع دیا ہے اس میں چاہے صدر جماعت ہے یا ذیلی تنظیموں کے عہدیداران ہیں ، امیر جماعت ہے آپ لوگوں کو ان لغو حرکات کو چھوڑنا ہو گا۔ اور اگر نہیں چھوڑیں گے تو جماعتی طور پر جو ایکشن ہو گا وہ تو ہو گا ہی، اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی یہ سب کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ آپ لوگ، عہدیداران کس طرح کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری ان تمام حرکات سے آگاہ ہوں۔ پس اگر اللہ کا خوف ہے تو اپنے دلوں کو بدلیں۔ اپنے عملوں کو ٹھیک کریں۔ اللہ نے جو خدمت کا موقع دیا ہے اس کو فضل الہی جانیں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے اوپر احسان سمجھیں، نہ کہ گروپ بندیاں کر کے سیاست کی دکان چمکانے کی کوشش کی جائے۔ خلیفہ وقت یا نظام جماعت کسی سے صرفِ نظر یا پردہ پوشی ایک حد تک کرتا ہے۔ اگر حدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی جائے ، یا یہ نظر آرہا ہو کہ جماعت کا وقار مجروح ہو رہا ہے تو پھر یقینا سزا بھی ملتی ہے۔ پس عہدیدار خاص طور پر اور ہر احمدی عمومی طور پر اپنے رویے بدلے۔ اپنے اندر اپنے بھائیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا کریں۔ اگر کسی بھائی سے معمولی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کو معاف کرنے کی کوشش کریں۔ کسی