سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 218 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 218

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 198 تلاوت کرتے ہیں۔ کتنے انصار ایسے ہیں جو اپنے گھروں سے بچوں کو نماز کے لئے لاتے ہیں اور ان کے بچے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ با قاعدہ اس معاملہ میں اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں اور اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ باہر پھر کر اپنا وقت ضائع تو نہیں کر رہے۔ اپنے سکول کی پڑھائی کر رہے ہیں اور دینی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ بچوں کی نگرانی کرنا بھی باپ کا کام ہے۔ قائد مال سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بجٹ کے بارہ میں دریافت فرمایا اور انصار کی آمد اور فی کس چندہ کے معیار کے بارہ میں دریافت فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ آپ کے چندہ میں جو مرکز کا حصہ ہے وہ با قاعدہ مرکزی ریز روفنڈ میں جمع ہونا چاہیے۔ قائد دعوت الی اللہ کے پروگراموں کا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے جائزہ لیا اور ہدایت فرمائی کہ اپنے ساتھ کوئی اسسٹنٹ لگائیں۔ دعوت الی اللہ نہیں ہو رہی۔ آپ کو تو سارا آئی لینڈ احمدی کر لینا چاہیے۔ دعوت الی اللہ کے لئے رابطے کریں، ذاتی تعلقات بڑھائیں۔ ہر مذہب کو اس کے مطابق لٹریچر دیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نئے احمدی بہت کم ہوئے ہیں۔ پرانے احمدیوں کے بچے آگے بڑھے ہیں۔ آپ نئے احمدی بھی بنائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ نے دعوت الی اللہ کے لئے جو لٹریچر تیار کیا ہے وہ لوگوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔ پھر اس کا follow up ہونا چاہیے۔ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اگر follow up نہیں کریں گے ،contact نہیں کریں گے تو آپ کو کیا پتہ کس کے دل میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ ایک ٹیم بنائیں جو کام کرنے والی ہو۔ فرمایا آپ نے جو سکیم بنائی ہے وہ اچھی ہے۔ اب مسلسل رابطہ اور تعلق قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ فرمایا جس کام کا follow up نہ ہو، feedback نہ ہو اس کا نتیجہ نہیں نکلتا۔ میٹنگ نیشنل عاملہ مجلس انصار اللہ فجی مورخہ 30 اپریل 2006ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 16 جون 2006ء)