سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 214

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 194 حصہ بنائیں گے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں بعض Fijian احمدیوں کو بھی شکوہ ہے کہ بعض دفعہ یہاں آکر وہ اپنے آپ کو اوپر ا محسوس کرتے ہیں۔ تو ان سے میں کہتا ہوں اس کا ایک یہ بھی علاج ہے۔ وہ احمدی ہوئے ہیں انہوں نے زمانے کے امام کو مانا ہے اور سمجھا ہے وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ جماعتی کاموں میں لگائیں کہ انتظامیہ ان سے کام لینے پر مجبور ہو۔ تبلیغ کا بہت بڑا میدان خالی پڑا ہے۔ ہر احمدی کے لئے کھلا ہے۔ اس میں آگے بڑھیں ذاتی رابطے کر کے اور طریقے اپنا کر تبلیغ کا کام کریں۔ اس کام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دیں۔ مردوں میں تو میں نے دیکھا ہے اللہ کے فضل سے نوجوانوں میں دوسری قوموں کے بھی کافی لڑکے کام کرنے والے ہیں۔ بعض عورتوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو اور عورتوں کو خاص طور پر چاہیے اپنی استعدادوں کے مطابق اور اپنے دائرے کے مطابق تبلیغ کے میدان میں آگے آئیں۔ بہر حال انصار اللہ کی تنظیم اور لجنہ اماء اللہ کی تنظیم اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم ان سب کو جائزے لینے چاہئیں کہ کیوں یہ شکوے پیدا ہوتے ہیں۔ چاہے وہ دوچار کی طرف سے ہی ہوں۔ لیکن شکوے رکھنے والے بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ انصار اللہ کے صدر بھی شاید فجی کے رہنے والے ہیں۔ وہ آسانی سے اپنے لوگوں کی نفسیات دیکھ کر پروگرام بنا سکتے ہیں۔ لجنہ کو بھی جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ غیر پاکستانی احمدیوں کی یا ایسے نوجوان پاکستانیوں کی جو لمبے عرصہ سے ملک سے باہر ہیں اور ان کا معاشرہ بالکل بدل چکا ہے ان کی فہرست بنائیں اور پھر دیکھیں کہ ان کو کس طرح جماعت کا فعال حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اپنی کوشش کریں تاکہ ان کے شکوے دور ہو جائیں۔ بہر حال اس کیلئے جس طرح میں پہلے کہہ چکاہوں دونوں طرف سے دلوں کو کھولنے اور بلند حوصلے دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہر طبقے کو اپنے تقویٰ کے معیار کو اونچا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا۔ ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ جماعت کا ایک نظام ہے اور یہ خلیفہ وقت کے ماتحت ہے اس لئے نظام کی اطاعت بھی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو تقویٰ پر چلتے ہوئے جہاں رحمن خدا سے تعلق جوڑنے کی توفیق دے