سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 213
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 193 بڑا خلا باقی ہے۔ جماعتی نظام بھی اور ذیلی تنظیموں کا نظام بھی اس بارے میں پلاننگ کریں۔ صرف روایتی بک سٹال یا صرف عشرہ تبلیغ منانے سے مقصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ صرف اتنا کام ہی کامیابی نہیں دلائے گا اس کے لئے مزید پلاننگ بھی کرنی ہو گی۔ انفرادی رابطے ہیں اور دوسری چیزیں ہیں۔ مختلف قوموں کے بارے میں جو یہاں آباد ہیں معلومات جمع کر کے پھر ان میں تبلیغ کے نئے ذرائع تلاش کریں، ہر طبقے کے پاس پہنچنے کی کوشش کریں اور پھر قائم شدہ رابطوں کو ہمیشہ قائم رکھیں، ان کے ساتھ مسلسل تعلق اور رابطہ رکھیں۔ اس ضمن میں یہ بھی بات کہنی چاہتا ہوں کہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے بلکہ چند ایک جو احمدی ہوئے ہیں ان کی شکایت بھی ہے کہ یہاں اکثریت کیونکہ پاکستانیوں کی ہے یہ ہمیں اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔ اجلاس وغیرہ میں بھی ایسی زبان ہونی چاہیے کہ جو یہاں کی زبان ہے یعنی انگریزی میں کارروائی ہو، تاکہ جو یہاں جزائر سے آئے ہوئے احمدی ہیں وہ بھی سمجھ سکیں۔ گو اکثر کو اردو بھی آتی ہے لیکن انگریزی میں زیادہ آسانی ہے۔ یہاں کے رہنے والے بھی ہیں جو بچے یہاں پلے بڑھے ہیں ان کو بھی انگریزی زبان زیادہ سمجھ آجاتی ہے۔ سوائے چند ایک بڑی بوڑھیوں کے یا بوڑھوں کے یا ان پڑھوں کے ، جن کو سمجھ نہیں آتی ان کیلئے ترجمے کا انتظام ہو سکتا ہے۔ یا مختصر ا اُردو میں کوئی پروگرام ہو سکتا ہے۔ تو بہر حال غیر پاکستانی احمدیوں کے یہ شکوے دور ہونے چاہئیں کہ ہم یہاں آکر یوں محسوس کرتے ہیں جس طرح ہم جماعت کا حصہ نہیں ہیں یہ بہت خطرناک صورت ہو سکتی ہے۔ ان نئے آنے والوں سے کام بھی لیں، ان کے شکوے دور کریں۔ میں نے جائزہ لیا ہے، ان نئے آنے والوں کیلئے بعض سے میں نے یہ پوچھا ہے یہ کس حد تک صحیح ہے، بہر حال مجھے ان سے جو معلومات ملی ہیں یہی ہیں کہ یہاں ان کو با قاعدہ کوئی سکھانے کا انتظام نہیں ہے۔ عورتوں کیلئے دینی تربیت کا، تعلیم کا انتظام لجہ کرے۔ مردوں کے لئے ذیلی تنظیمیں انتظام کریں، مجموعی طور پر جماعت جائزہ لے۔ اگر اس سلسلے میں ذیلی تنظیمیں پوری طرح فعال نہیں تو جماعتی نظام کے تحت انتظام ہو اور نگرانی ہو۔ اور جو ذیلی تنظیمیں سست ہیں ان کے بارے میں مجھے اطلاع بھی دیں۔ تو جب اس طرح کام کریں گے تبھی ہر احمدی کو جماعت کا فعال