سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 212
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 192 پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : جس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔ مجھے اس کے ایمان کا خطرہ ہے کیونکہ اس میں تکبر کی ایک جڑ ہے۔ اگر خدا راضی نہ ہو تو گویا یہ برباد ہو گیا۔ پس جب اس کی اپنی اخلاقی حالت کا یہ حال ہے تو اسے دوسرے کو کہنے کا کیا حق ہے ؟ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 590 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اپنی عملی حالتوں کو درست کرنا انتہائی ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اعلیٰ مقصد کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔ آپ کی شرائط بیعت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے اور اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پس ہر احمدی جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شمار کرتا ہے اس پر یہ بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ یہ عہد آپ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کر رہے ہیں۔ جس عہد کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ عہد بیعت میں ہم نے کیا ہے۔ ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے دوسروں کو بھی کہنے کا ہمیں کیا حق ہے۔ پس جیسے کہ میں نے پہلے کہا تھا تبلیغی میدان میں ترقی کرنے کے لئے بھی اپنی عملی حالتوں کو درست کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود نے یہی فرمایا ہے کہ اگر تم خود اپنی اخلاقی حالتوں کو درست نہیں کر رہے تو دوسروں کو تم کیا کہو گے۔ پس اس حوالے سے دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں، اپنی عملی حالتوں کو درست کرتے ہوئے خدائے رحمن کا بندہ بنتے ہوئے اس کے اس خوبصورت اور حسین پیغام کو جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا اور جس کے پھیلانے کا کام اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے سپر د کیا ہے اس کو ملک میں پھیلائیں یہ اپنے جائزے لیں، دیکھیں، کہاں کہاں کمیاں ہیں، کہاں کمزوریاں ہیں ان کو پورا کرتے ہوئے اس کام کو بھی سنجیدگی سے سر انجام دینے کی کوشش کریں۔ اس میں ابھی بھی بہت