سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 211 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 211

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 191 ہوئے کبھی کسی بات کے پیچھے نہیں پڑ جانا چاہیے۔ ہر ایک میں کئی خوبیاں اور اچھائیاں بھی ہوتی ہیں وہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ یہی چیز ہے جس سے محبت اور پیار کی فضا پیدا ہو گی۔ پس ہر ایک کو اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے چاہے وہ عہدیدار ہے یا عام احمد ی ہے ، مرد ہے یا عورت ہے۔ اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کریں۔ جب غیر معمولی مثالی نمونے ہر جگہ قائم ہوں گے تو جماعت کی تبلیغی لحاظ سے بھی ترقی ہو گی اور تربیتی لحاظ سے بھی ترقی کرے گی۔ آئندہ نسلیں بھی احمدیت کی تعلیم پر حقیقی معنوں میں قائم ہونے والی پیدا ہوں گی بلکہ یہ نسلیں جماعت کا ایک قیمتی اثاثہ بنیں گی۔ زبان ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے محبتیں بھی پنپتی ہیں اور قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔ اس کا صحیح استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے سوال پر اسلام کی یہ خوبی بیان فرمائی کہ وہ لایعنی باتوں کو کو چھوڑ دے۔ بلا مقصد کی بے تکی باتوں کو چھوڑ دے ایسی باتوں کو چھوڑ دے، جن سے دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنیں۔ اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اعلیٰ اخلاق کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک اپنے اخلاق دکھائے ہیں کہ بعض وقت ایک بیٹے کے لحاظ سے جو سچا مسلمان ہے، منافق کا جنازہ پڑھ دیا ہے بلکہ اپنا مبارک کر تہ بھی دے دیا ہے“۔ فرمایا کہ : ” اخلاق کا درست کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ جب تک انسان اپنا مطالعہ نہ کرتا رہے“ اپنے آپ کو نہ دیکھتا رہے، ” یہ اصلاح نہیں ہوتی۔ زبان کی بد اخلاقیاں دشمنی ڈال دیتی ہیں۔ اس لئے اپنی زبان کو ہمیشہ قابو میں رکھنا چاہیے۔ دیکھو کوئی شخص ایسے شخص کے ساتھ دشمنی نہیں کر سکتا جس کو وہ اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔ پھر وہ شخص کیسا بے وقوف ہے جو اپنے نفس پر بھی رحم نہیں کرتا اور اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے جبکہ وہ اپنے قویٰ سے عمدہ کام نہیں لیتا اور اخلاقی قوتوں کی تربیت نہیں کرتا۔ ہر شخص کے ساتھ نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے ۔ “ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 262 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) 66 اور یہی گر ہے جس کو اگر ہر فرد اپنا لے تو جماعت کی ایک امتیازی شان قائم ہو سکتی ہے۔