سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 210

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 190 اگر غلطیاں سرزد ہو جائیں تو صرفِ نظر سے کام لینا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی کو برابھلا کہہ دیا تو جس کو برا بھلا کہا جاتا ہے وہ اس قدر غصے میں آ جاتا ہے کہ مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح اس نے ساری زندگی برائی کی نہ ہو۔ فرمایا کہ اگر ہر کوئی اپنی برائیوں پر نظر رکھے تو کسی کے کچھ کہنے پر کبھی غصے میں نہ آئے اور صبر اور برداشت سے کام لے۔ اور جب ہر کوئی صبر اور برداشت سے کام لے گا تو بہت سے چھوٹے چھوٹے مسائل اور گلے شکوے پیدا ہی نہیں ہوں گے یا پیدا ہوتے ہی ختم ہو جائیں گے۔ ایک بزرگ کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ وہ بازار میں جارہے تھے تو ایک شخص نے ان کو برابھلا کہنا شروع کیا اور کوئی دنیا کا عیب یا برائی نہیں تھی جو اس نے نہ نکالی ہو یا ان کو نہ کہی ہو۔ وہ چپ کر کے یہ ساری باتیں سنتے رہے تو برا بھلا کہنے والا شخص جب خاموش ہو گیا تو ان بزرگ نے کہا کہ اگر تو یہ تمام برائیاں جو تم نے مجھ میں گنوائی ہیں واقعی میرے اندر موجود ہیں تو میں بھی اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں تم بھی میرے لئے مغفرت کی دعا کرو۔ وہ گالیاں نکالنے والا شخص بے قرار ہو کر اس بزرگ سے چمٹ گیا اور کہا کہ میں غلط ہوں۔ یہ برائیاں آپ میں نہیں ہیں۔ تو ان بزرگ نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ تم سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے۔ تو یہ طریق ہیں بات کو ختم کرنے اور نیکیوں کو پھیلانے کے ورنہ ایسے لوگ جو جھگڑے کر کے جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں کاٹے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے واضح طور پر فرمایا ہے۔ پس اگر غلطیاں سرزد ہو جائیں تو صرفِ نظر سے کام لینا چاہیے۔ اور اگر کوئی حد سے تجاوز کر گیا ہے برداشت سے باہر ہو چکا ہے اور اس میں جماعت کی بدنامی کا بھی امکان ہے تو پھر متعلقہ بڑے نظام کو، نظام جماعت کو یا خلیفہ وقت کو اطلاع دے کر پھر خاموش ہو جانا چاہیے۔ دوسروں کو غیروں کو یا کسی بھی تیسرے شخص کو یہ احساس کبھی پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص یا فلاں فلاں عہدیدار ایک دوسرے کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں۔ غلطیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں۔ آج زید سے غلطی ہوئی ہے تو کل بکر سے بھی ہو سکتی ہے اس لئے کینے دلوں میں رکھتے