سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 200
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 180 موصی کا معیار قربانی دوسروں کی نسبت، غیر موصی کی نسبت زیادہ ہونا چاہیے۔ تو اگر وصیت کا صرف کم سے کم 1/10 حصہ سے دے کر باقی چندے نہیں دے رہے تو ہو سکتا ہے۔ غیر موصی دوسرے چندے شامل کر کے موصیان سے زیادہ قربانی کر رہے ہوں۔ تو اس لحاظ سے واضح کر دوں کہ کوئی بھی چندہ دینے والا، چاہے وہ موصی ہے یا غیر موصی ہے اگر توفیق ہے تو تمام تحریکات میں چندے دینے چاہئیں کیونکہ ہر تحریک اپنی اپنی ضرورت کے لحاظ سے بڑی اہم ہے۔ پھر ایک اور بات ہے جس کی طرف میں عرصہ سے توجہ دلا رہا ہوں کہ نو مبائعین کو مالی نظام میں شامل کریں۔ یہ جماعتوں کے عہدیداروں کا کام ہے۔ جب نو مبائعین مالی نظام میں شامل ہو جائیں گے تو جماعتوں کے یہ شکوے بھی دور ہو جائیں گے کہ نو مبائعین سے ہمارے رابطے نہیں رہے۔ یہ رابطے پھر ہمیشہ قائم رہنے والے رابطے بن جائیں گے اور یہ چیز ان کے تربیت اور ان کے تقویٰ کے معیار بھی اونچے کرنے والی ہو گی۔ تو جیسا کہ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں مالی قربانیوں کے بارے میں بے شمار ہدایات ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ جو بھی فضل فرماتا ہے ان کو اس میں بھی شامل کرنا چاہیے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 2006ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 172-175)