سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 199
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 179 نو مبا تعین کو مالی نظام میں شامل کریں ”جو چندے کے معاملے میں ستیاں دکھانے والے ہیں وہ اپنے جائزے لیں اور جو جماعتی عہدیدار نئے شامل ہونے والوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں کرتے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔ پس جہاں دین کی نصرت کے لئے آسمان پر شور ہے وہاں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان ذمہ داریوں کو بھی ہمیں نبھانا ہو گا۔ اور ہم ہلاکت سے اس صورت میں بچ سکتے ہیں جب آحْسِنُوا پر عمل کرتے ہوئے اپنے فرائض عمدگی سے ادا کرنے والے ہوں اور اس کے نتیجہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔ ۔۔۔۔ پس یہ نمونے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے نظارے ہمیں دکھاتے ہیں، وہاں اُن سست لوگوں کو بھی توجہ کرنی چاہیے ، ان کو بھی توجہ دلانے والے بننے چاہئیں جو حیلوں بہانوں سے چندوں میں کمی کی درخواستیں کرتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ مالدار ہونے کی طمع رکھتے ہیں ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح پیسہ اکٹھا ہو جائے۔ یہ چند لوگ اُن برکتوں میں نہ شامل ہو کر جو اس قربانی کی وجہ سے ملنی ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ سب احمد یوں کو عقل دے اور اس بخل سے محفوظ رکھے۔ ۔۔۔۔ چندوں کے بارہ میں بعض جماعتوں کے بعض استفسار ہوتے ہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ وضاحت کر دوں۔ ایک تو یہ کہ آج کل وصیت کی طرف بہت توجہ ہے۔ اور وصیت کی طرف توجہ تو ہو گئی ہے لیکن تربیت کی کافی کمی ہے۔ اس لئے بعض موصیان یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ ہم نے وصیت کی ہوئی ہے اس لئے ہم صرف وصیت کا چندہ دیں گے باقی ذیلی تنظیموں کے چندے یا مختلف تحریکات کے چندے ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔ تو یہ واضح ہو ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر تو حالات ایسے ہوں کہ تمام چندے نہ دے سکتے ہوں تو اس کی اجازت لے لیں۔ ورنہ توقع ایک موصی سے یہ کی جاتی ہے کہ ایک