سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 198
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 178 بنیادی چیز ہے جس کو نمائندگی دیتے ہوئے مد نظر رکھنا چاہیے اور ایک عام مسلمان کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ عبادت گزار ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین ہی نہیں ہے۔ (الترغیب و الترهيب جلد نمبر اول حدیث نمبر 820 الترهيب من ترك الصلوة تعمدا و اخراجها طبع اول 1994 دار الحدیث قاہرہ) تو ایک عام احمدی کے لئے جب نمازوں کی ادائیگی فرض ہے تو عہدیدار جو ہر لحاظ سے افراد جماعت کے لئے نمونہ ہونا چاہئیں ان کے لئے تو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی کوئی نماز بغیر جماعت کے نہ ہو سوائے کسی اشد مجبوری کے۔ پس ہمیشہ یادرکھیں کہ یہ جو دو تین دن شوری کے لئے آتے ہیں اور آئے ہیں، ان میں صرف یہی نہیں کہ ان دنوں میں ہی یہیں نمازیں پڑھنی ہیں اور دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ ہر نمائندے کو ، ہر عہدیدار کو با قاعدہ نماز باجماعت کا عادی ہونا چاہیے۔ خود اپنے جائزے لیں، اپنا محاسبہ کریں، دین کی سر بلندی کی خاطر آپ کے سپرد بعض ذمہ داریاں کی گئی ہیں۔ اگر ان میں دین کے بنیادی ستون کی طرف ہی توجہ نہیں ہے تو خدمت کیا کریں گے اور مشورے کیا دیں گے۔ جو دل عبادتوں سے خالی ہیں ان کے مشورے بھی تقویٰ کی بنیاد پر نہیں ہو سکتے۔ پھر بندوں کے حقوق ہیں۔ نمائندگان اور عہدیداران کو اپنے دلوں کو ہر قسم کی برائیوں اور رنجشوں سے پاک کرنا ہو گا، لین دین کے معاملے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں بھی ان کے ہاتھ بالکل صاف ہونے چاہئیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمسائے سے حسن سلوک کا خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کی یہاں تک تاکید فرمائی ہے کہ صحابہ کو خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارے ورثہ میں حصہ دار بننے والے ہیں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 24 مارچ 2006ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 4 صفحہ 160-164)