سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 197
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 177 ہے۔ اس طرح تو اعلیٰ مقاصد حاصل نہیں کئے جاتے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ شوریٰ میں اس کے لئے بھی مخصوص وقت ہونا چاہیے تاکہ دیکھا جائے اپنا جائزہ لیا جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ کج بحثی ناپسندیدہ فعل ہے لیکن بحث سے بچنے کے لئے، اپنے جائزے لینے کے لئے، آنکھیں بند کر لینا بھی اس سے زیادہ ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس جائزہ میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جن جماعتوں نے خاص کوشش کی ہے زیادہ اچھا کام کیا ہے ان کا طریقہ کار کیا تھا۔ انہوں نے کس طرح اس پر عملد رآمد کروایا۔ اس طرح پھر جب discussion ہو گی تو پھر دوسری جماعتوں کو بھی اپنی کار کردگی بہتر کرنے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اس کارروائی یا بحث میں بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی ذات پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ کسی کی ذات پر تبصرہ پرس پر نہیں کرنا بلکہ صرف شعبے کا جائزہ ہو۔ اس فیصلے پر جس پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا، اس کا جائزہ لیا جائے کہ کہاں کمیاں ہیں اور کیوں کمیاں ہیں۔ بہر حال ہمیں کوئی ایسا طریق وضع کرنا ہو گا جس سے قدم آگے بڑھنے والے ہوں۔ یہ نہیں ہے کہ ایک فیصلہ کیا اور تین سال اس پر عمل نہ کیا یا اتنا کم عمل کیا کہ نہ ہونے کے برابر ہو ، اکثر جماعتوں نے سستی دکھائی اور پھر تین سال کے بعد وہی معاملہ دوبارہ اس میں پیش کر دیا کہ شوریٰ اس کے لئے لائحہ عمل تجویز کرے۔ تو یہ تو ایک قدم آگے بڑھانے اور تین قدم پیچھے چلنے والی بات ہو گی۔ پھر شوری کے نمائندگان اور عہدیداران کو چاہے وہ مقامی جماعتوں کے ہوں یا مرکزی انجمنوں کے ہوں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جماعت کی نظر میں آپ جماعت کا ایک بہترین حصہ ہیں جن کے سپر د جماعت کی خدمت کا کام کیا گیا ہے۔ اور آپ لوگوں سے یہ امید اور توقع کی جاتی ہے کہ آپ کا معیار ہر لحاظ سے بہت اونچا ہو گا اور ہونا چاہیے۔ چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو ، عبادت کرنے کی طرف توجہ دینے کے بارے میں ہو، یا بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہو یا خلیفہ وقت سے تعلق اور اطاعت کے بارے میں ہو۔ اس لئے نمائندگان اور عہدیداران کو اس لحاظ سے بھی اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ وہ کس حد تک اپنی عبادتوں کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ عبادت ایک