سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 196

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 176 اب اس دفعہ بھی پاکستان کی شوریٰ میں پیش کرنے کے لئے جماعتوں نے بعض تجویزیں رکھیں اور یہ دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے لیکن ان تجویزوں کو انجمن یا ملکی مجلس عاملہ شوریٰ میں پیش کرنے کی سفارش نہیں کرتی کہ یہ تجویز گزشتہ سال یا دو سال پہلے شوریٰ میں پیش ہو چکی ہے اور حسب قواعد تجویز تین سال سے پہلے شوریٰ میں پیش نہیں ہو سکتی۔ تو اس تجویز کے آنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کم از کم اس جماعت میں جس کی طرف سے یہ تجویز آئی ہے وہاں اس فیصلے پر جو ایک سال یا دو سال پہلے ہوا تھا، شوری نے کیا تھا اور پھر منظوری لی تھی، اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اور یہ بات واضح طور پر اس جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوریٰ کی سستی اور نا اہلی ثابت کرتی ہے۔ اور یہ واضح ثبوت ہے اس بات کا کہ خود ہی کسی کام کو کرنے کے بارے میں ایک رائے قائم کر کے اور پھر اس پر آخری فیصلہ خلیفہ وقت سے لینے کے بعد اس فیصلے کو جماعت نے کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ سستی صرف اس لئے ہے کہ جس طرح ان معاملات کا پیچھا کرنا چاہیے ، مرکز نے بھی پیچھا نہیں کیا، نظارتوں نے بھی پیچھا نہیں کیا یا ملکی سطح پر ملکی عاملہ پیچھا نہیں کرتی۔ ترجیحات اور اور رہیں ۔ اس طرح مرکزی عہدیداران بھی جب یہ توجہ نہیں دے رہے ہوتے تو وہ بھی اپنی امانت کا حق ادا نہیں کر رہے ہوتے۔ اس کے لئے مرکزی عہدیداران کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور مقامی جماعت کے عہدیداران اور نمائندگان شوریٰ کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور جائزہ لینا ہو گا اور وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کہ کیوں سال دو سال پہلے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ملکی انتظامیہ کی طرف سے یا انجمنوں کی طرف سے اس بنا پر کہ تھوڑا عرصہ پہلے کوئی تجویز پیش ہو چکی ہے، پیش نہ کئے جانے کی سفارش آتی ہے۔ ٹھیک ہے شوریٰ میں پیش تو نہ ہو لیکن اپنے جائزے اور محاسبہ کے لئے کچھ وقت ان تجاویز کی جگالی کے لئے ضروری ہے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ عملد رآمد نہیں ہوا۔ اگر تو 70-80 فیصد جماعتوں میں عمل ہو رہا ہے اور 20-30 فیصد جماعتوں میں نہیں ہو رہا تو پھر تو جائزے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر 70-80 فیصد جماعتوں میں گزشتہ فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے تو لمحہ فکریہ