سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 195

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 175 کے سامنے اگر بہانے بنا کر بیچ بھی جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ضرور پوچھے جائیں گے جو اپنی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے۔ پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر باوجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں دیتے اور اپنے دوسرے پروگراموں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اور شوریٰ کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوریٰ کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔ اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں ، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔ جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے ، کسی رنجش کی بنا پر کوئی فرد جماعت اگر کوئی خط لکھتا ہے تو پھر جب بات سامنے آتی ہے اور جب بعض کاموں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، یا تحقیق کی جاتی ہے تو پھر یہی عہدیداران اور نمائندگان لمبی لمبی کہانیوں کا ایک دفتر کھول دیتے ہیں۔ امانت کی ادائیگی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب کوئی غلط بات یا سستی دیکھی تو فوراً اطلاع کی جاتی۔ اور اگر مقامی سطح پر یہ باتیں حل نہیں ہو رہی تھیں تو اُس وقت آپ باتیں پہنچاتے۔ جماعت کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کا یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ بعض لوگ اس خوف سے کہ ہم پر ذمہ داری نہ آپڑے ذمہ داری سے بے سے بچنے کے لئے خاموشی سے بیٹھے رہتے ہیں۔ تو ہیں۔ تو اگر اپنا جائزہ لینے کی، اپنا محاسبہ کرنے کی ہر عہدیدار کو ہر نمائندہ شوریٰ کو عادت ہو گی اور یہ خیال ہو گا کہ مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے خلیفہ وقت کو مشورہ دینے کے لئے چنا گیا ہے اور پھر تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے مشورہ دینے کے بعد میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ میں یہ جائزہ لیتار ہوں کہ کس حد تک ان فیصلوں پر عمل ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے کاموں میں ایک واضح تبدیلی پیدا ہو گی۔ جیسا کہ میں نے کہا یہ ایک مسلسل عمل ہے کام کرنے کا اور جائزے لیتے رہنے کا۔ تبھی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ اور جماعتوں میں ایک واضح بیداری پیدا ہو گی اور نظر آرہی ہو گی۔