سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 160
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 140 ہمارے بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی دعا ہی ہے دو پیارے انصار بھائیو ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الحمد للہ کہ مجلس انصار اللہ بھارت کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ کرے کہ آپ سب اس اجتماع سے بھر پور فائدہ اٹھانے والے ہوں اور علم و عرفان اور روحانیت سے معمور ہو کر یہاں سے بخیریت اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔ آمین مجھے یہ کہا گیا ہے کہ اس موقع پر آپ کو کوئی پیغام بھجواؤں۔ میرا پیغام تو یہی ہے جس پر میں شروع دن سے زور دیتا چلا آیا ہوں کہ ہمارے بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کنجی دعا ہی ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعا ہی ہے۔ دعا ہی ہمارا ہتھیار ہے اس کے سوا اور کوئی ہتھیار ہمارے پاس نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو مکہ کی گلیوں میں خدائے تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔ جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت کی دعاؤں کا اثر تھاور نہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: وو ” یہ میری نصیحت جس کو ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں قرآن شریف کے تیس پارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جاویں اور اس پر عمل درآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے دعا کو مضبوطی سے پکڑ لو میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اللہ تعالی ساری مشکلات کو آسان کر دے گا۔“