سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 148

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 128 اگر کوئی شخص کسی جماعتی تعزیر یافتہ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے نزدیک اسے نظام جماعت کا کوئی احساس نہیں ہے بعض معمولی باتیں ہوتی ہیں جو دلوں کو ٹیڑھا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں اور عموماً یہی چیزیں ہوتی ہیں مثلاً دو باتیں ہیں ایک شدید محبت اور ایک شدید غصہ جس میں انتہا پائی جاتی ہو۔ تو اصل میں جو شدید محبت ہے وہی شدید غصے کی وجہ بنتی ہے۔ جب غصہ آتا ہے تو وہ یا تو نفس کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے یا اپنے کسی قریبی عزیز کی محبت غالب ہونے کی وجہ سے آتا ہے۔ بعض دفعہ میاں بیوی کی جو گھریلو لڑائیاں یا خاندانی لڑائیاں یا کاروباری لڑائیاں ہوتی ہیں ان میں انسان مغلوب الغضب ہو کر ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ تو جب یہ مغلوب الغضب ہوتا ہے تو اس وقت اپنے نفس سے ہی پیار کر رہا ہوتا ہے۔ اس کو اپنے نفس کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہوتی اور اس کو پتہ نہیں لگ رہا ہو تا کہ کیا کہہ رہا ہے۔ بالکل ہوش و حواس غائب ہوتے ہیں۔ قضاء میں بعض معاملات آتے ہیں اگر فیصلہ مرضی کے مطابق نہ ہو، ایک فریق کے حق میں نہ ہو تو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ہوش و حواس میں نہیں رہتے۔ صاف جواب ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔ اور پھر جب تعزیر ہو جاتی ہے، سزا مل جاتی ہے تو پھر معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے معافی مانگتے ہیں کہ غلطی ہو گئی، ہمیں معاف کر دیں اور پھر فیصلہ پر بھی عملدرآمد کر دیں گے۔ تو یہ تو وہی حساب ہو جاتا ہے ان کا کہ سو جوتیاں بھی کھالیں اور سو پیاز بھی کھالئے۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی، جھوٹی اناؤں نے انہیں اپنے قبضے میں لیا ہوتا ہے۔ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اطاعت کرنی ہے۔ ویسے اگر اپنے اوپر کوئی بات نہ ہو، اپنا مسئلہ نہ ہو تو دعوے یہ ہوتے ہیں کہ نظام جماعت پر ، خلیفہ وقت پر ہماری تو جان بھی قربان ہے۔ لیکن اپنے خلاف فیصلہ ہو جائے تو پھر وہ نہیں مانتے۔ اور پھر نہ صرف مانتے نہیں بلکہ جماعت کے خلاف اعتراض بھی کرنے شروع ہو جاتے ہیں۔ تو ایسے جو لوگ ہیں وہ اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کے دل آہستہ آہستہ مستقل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ جھوٹی اناؤں کی خاطر ، چند ایکڑ زمین کی