سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 149
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 129 خاطر وہ اپنا دین بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے عزیز جو مجلس لگاتے ہیں یا ان کو اپنی مجلسوں میں بلاتے ہیں یا بعض دفعہ پاس بٹھا کر کھانا کھلا لیتے ہیں کہ جی مجبوری ہو گئی تھی۔ بعض دفعہ یہ بہانے بن رہے ہوتے ہیں کہ فلاں عزیز کی وفات پر وہ آیا تھا اس لئے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا۔ تو ایسے لوگ بھی اس مجرم کی طرح بن رہے ہوتے ہیں۔ نظام جماعت کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ خلیفہ وقت کے فیصلوں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ جماعت کی تعزیر جو ایک معاشرتی دباؤ کے لئے دی جاتی ہے، اس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے چاہے ایک دفعہ ہی سہی اگر کسی ایسے سزا یافتہ شخص کے ساتھ بیٹھتے ہیں جس کی تعزیر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ سزا تو ہے لیکن کوئی حرج نہیں، ہمارے تمہارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے تعلقات قائم ہیں۔ سوائے بیوی بچوں یا ماں باپ کے۔ ان کے تعلقات بھی اس لئے ہوں کہ سزا یافتہ کو سمجھانا ہے۔ اور قریبی ہونے کی وجہ سے ان میں درد زیادہ ہوتا ہے اس لئے ایک درد سے سمجھانا ہے۔ ان کے لئے دعائیں کرنی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی جماعتی تعزیر یافتہ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے نزدیک اسے نظام جماعت کا کوئی احساس نہیں ہے۔ اور خاص طور پر عہدیداران کو یہ خاص احتیاط کرنی چاہیے۔“ (خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 2005ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 538-539)