سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 139

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 119 دعویٰ کیا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی خاطر خلافت سے محبت ہے تو پھر نظام جماعت جو نظام خلافت کا حصہ ہے اس کی بھی پوری اطاعت کریں۔ خلیفہ وقت کی طرف سے تقویٰ پر قائم رہنے کی جو تلقین کی جاتی ہے اور یقینا یہ خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہی ہے ، اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نور کی جس آیت میں خلافت کا انعام دیئے جانے کا وعدہ فرمایا ہے اس سے پہلی آیتوں میں یہ مضمون بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اللہ سے ڈرو، اس کا تقویٰ اختیار کرو تو پھر تمہاری کامیابیاں ہیں۔ ورنہ پھر کھوکھلے دعوے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے اور ہم وہ کر دیں گے۔ ہم آگے بھی لڑیں گے ، ہم پیچھے بھی لڑیں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقُهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ، وَاقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ طَ قُلْ لَّا تُقْسِمُوا طَاعَةً مَعْرُوفَةً إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (النور : 53-54) یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے تو یہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔ دستور کے مطابق اطاعت کرو۔ یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔ پس اگر حقیقت میں یہ سچا دعویٰ ہے تو پھر تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کریں، اس کے بندوں کے حقوق ادا کریں، جلسے کے دنوں میں جو نصائح کی گئی تھیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔اپنے اس عہد پر عمل کر کے دکھائیں کہ ہر معروف فیصلے پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ورنہ یہ عہد یہ دعوے کھو کھلے ہیں۔ تم اپنی باتوں سے تو زبانی جمع خرچ میں یہ کہہ سکتے ہو کہ ہاں ہم یوں کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ان دعووں کی کُنہ تک سے واقف ہے۔ اس کو گہرائی تک علم ہے۔ دلوں کا حال جانتا ہے۔ باتوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے۔ اس لئے اس کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ پس اللہ کا یہ خوف دل میں رکھتے ہوئے ہر احمدی کو اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی