سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 140

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 120 چاہیے اور اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو تمہارا خلافت کے ساتھ تعلق بھی مضبوط ہو گا اور کیونکہ یہ تعلق خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو گا اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر اپنا فضل فرماتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے خلافت کے انعام سے فیض پانے والے ان لوگوں کو قرار دیا ہے جو نیک اعمال بھی بجالانے والے ہوں۔ پس خلافت سے تعلق مشروط ہے نیک اعمال کے ساتھ۔ خلافت احمد یہ نے تو انشاء اللہ تعالیٰ قائم رہنا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ لیکن نظام خلافت سے تعلق انہیں لوگوں کا ہو گا جو تقویٰ پر چلنے والے اور نیک اعمال بجالانے والے ہوں گے۔ اگر جائزہ لیں تو آپ کو نظر آجائے گا کہ جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعد گی نہیں ہے، ان کا نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں ان کا خلافت اور نظام سے تعلق بھی زیادہ ہے۔ اور جن گھروں میں نمازوں میں بے قاعد گیاں ہیں، جن گھروں میں اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے میں وہ شدت نہیں ہے احمدی ہونے کے باوجود نظام جماعت کا کا احترام نہیں ہے، لوگوں کے حقوق صحیح طور پر ادا نہیں کرتے وہی لوگ ہیں جن کے گھروں میں بیٹھ کر خلیفہ وقت کے بارہ میں بعض منفی تبصرے بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔ تو اپنے آپ کو نظام جماعت اور جماعتی عہدیداران سے بالا بھی وہاں سمجھا جا رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ تبصرے شروع کرتے ہیں عہدیداروں سے اور بات پہنچتی ہے خلیفہ وقت تک۔ جب نظام جماعت کی طرف سے ان کے خلاف کوئی فیصلہ آتا ہے تو اس پر بجائے استغفار کرنے کے اعتراض ہو رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نظام جماعت میں تو خلافت کی وجہ سے یہ سہولت میسر ہے کہ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ کوئی فیصلہ کسی فریق کی طرفداری میں کیا گیا ہے تو خلیفہ وقت کے پاس معاملہ لایا جاسکتا ہے۔ اگر پھر بھی بعض شواہد یا کسی کی چرب زبانی کی وجہ سے فیصلہ کسی کے خلاف ہوتا ہے تو اس کو تسلیم کر لینا چاہیے اور بلا وجہ نظام پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اعتراض تو بڑھتے بڑھتے بہت اوپر تک چلے جاتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر اس حدیث کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے ، پیش نظر رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر کوئی اپنی چرب زبانی کی وجہ سے میرے سے فیصلہ اپنے حق میں کروالیتا ہے حالانکہ وہ حق پر نہیں ہو تا تو وہ آگ کا گولہ اپنے پیٹ میں ڈال