سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 138
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 118 ہے۔ اس لئے یہ تصور غلط ہے کہ تکلیف نہ دو۔ کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور تکلیف پہنچانا اس حد تک جائز ہے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے۔ پس اس تصور کو عہدیداران جن کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ خلیفہ وقت کو تکلیف کیا دینی ہے ، وہ ذہن سے یہ بات نکال دیں اور مجھے بھی گناہگار ہونے سے بچائیں اور خود بھی گناہگار ہونے سے بچیں۔ اگر اصلاح کی خاطر کسی بڑے آدمی کے خلاف بھی کارروائی کرنی پڑے تو کریں اور اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کریں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اگر فیصلے تقویٰ پر مبنی اور نیک نیتی سے کئے گئے ہیں تو یاد رکھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیشہ آپ کے شامل حال رہے گی۔ ورنہ یاد رکھیں اگر جماعت احمد یہ الہی جماعت ہے اور یقینا الہی جماعت ہے تو پھر اس کی رہنمائی بھی اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، فرماتا رہے گا۔ ایک حد تک تو بعض عہدیداران سے صرف نظر ہو گی لیکن پھر یا تو خلیفہ وقت کے دل میں اللہ تعالیٰ ڈال دے گا یا کسی اور ذریعہ سے اس عہدیدار سے خدمت کا موقع چھین لے گا، اس کو خدمت سے محروم کر دے گا۔ پس تمام عہدیداران تقویٰ سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ اپنے فرائض منصبی ادا کریں۔ اور آپ کا کبھی کوئی فیصلہ ، کبھی کوئی کام نفسانی خواہشات کے زیر اثر نہ ہو۔ اللہ سب کو اس کی توفیق دے۔ خلافت سے محبت ہے تو پھر نظام جماعت جو نظام خلافت کا حصہ ہے اس کی بھی پوری اطاعت کریں دوسری بات میں احباب جماعت سے یہ کہنا چاہتا ہوں، جیسے کہ پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں کہ ایک بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت سے وفا اور اخلاص کا تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں یہ ریزولوشنز (resolutions)، یہ خط، یہ وفاؤں کے دعوے تب سچے سمجھے جائیں گے ، تب سچے ثابت ہوں گے جب آپ ان دعووں کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنالیں۔ نہ کہ وقتی جوش کے تحت نعرہ لگا لیا اور جب مستقل قربانیوں کا وقت آئے، جب وقت کی قربانی دینی پڑے ، جب نفس کی قربانی دینی پڑے تو سامنے سو سو مسائل کے پہاڑ کھڑے ہو جائیں۔ پس اگر یہ