سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 137

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 117 ہے، ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اگر عہدیداران، جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں، دوسرے عہدیداران بھی ہیں اپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔ میرے نزدیک وہ دوہرے گناہگار ہو رہے ہوتے ہیں۔ دوہرے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایک اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہ دے کر ، دوسرے خلیفہ وقت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ، خلیفہ وقت کے علم میں صحیح صورت حال نہ لا کر ۔ نمائندے کی حیثیت سے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، عہدیداران کا یہ فرض بنتا ہے کہ خلیفہ وقت کو ایک ایک بات پہنچائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تو پھر اس کی مدد کے لئے وہ تیار رہتا ہے بعض دفعہ بیوقوفی میں بعض لوگ یہ کہہ جاتے ہیں ، ان میں عہدیدار بھی شامل ہیں، کہ ہر بات خلیفہ وقت تک پہنچا کر اسے تکلیف میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ عام لوگ بھی جس طرح میں نے کہا کہہ دیتے ہیں کہ اپنی تکلیفیں زیادہ نہ لکھو جو مسائل ہیں وہ نہ لکھو۔ وہ کہتے یہ ہیں کہ پہلے تھوڑے معاملات ہیں؟ پہلے تھوڑی پریشانیاں ہیں ؟ جماعتی مسائل ہیں جو ان کو اور پریشان کیا جائے۔ تو یاد رکھیں، میرے نزدیک یہ سب شیطانی خیال ہیں، غلط خیال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا براہِ راست حکم خلیفہ کے لئے ہے اور کیونکہ کام کے پھیل جانے کی وجہ سے کام بہت وسیع ہو گئے ہیں، پھیل گئے ہیں، خلیفہ وقت نے اپنے نمائندے مقرر کر دیئے ہیں تاکہ کام میں سہولت رہے۔ لیکن بنیادی طور پر ذمہ داری بہر حال خلیفہ وقت کی ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تو پھر اس کی مدد کے لئے وہ تیار رہتا ہے۔ کیونکہ خلیفہ بنایا بھی اُس نے ہے تو یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ خلیفہ بنائے بھی خود، ذمہ داری بھی اس پر ڈالے اور پھر اپنی مدد اور نصرت کا ہاتھ بھی اس پر نہ رکھے۔ اس لئے یہ تصور ہی غلط ہے کہ خلیفہ وقت کو تکلیف نہ دو۔ خلیفہ کی جو برداشت ہے اور تکلیف دہ باتیں سننے کا جس قدر حوصلہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہوتا ہے یا خلافت کے انعام کے بعد جس طرح اس کو بڑھاتا جاتا ہے کسی اور کو نہیں دیتا۔ اس لئے یہ ساری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے پنے فضل سے اس سے ادا ادا کروانی ہوتی ہے۔ بہر حال وہ حوصلہ بڑھا دیتا