سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 136

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 116 سے محبت کرتے ہیں۔ تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ (مسلم كتاب الامارة باب خيار الائمة وشرارهم ) تو اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے تمام عہدیدار اپنے فرائض نبھائیں اور جب فیصلے کرنے ہوں تو خالی الذہن ہو کر کیا کریں، کسی طرف جھکاؤ کے بغیر کیا کریں۔ جیسا کہ پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تقویٰ یہی ہے کہ اگر اپنے خلاف یا اپنے عزیز کے خلاف بھی گواہی دینی ہو تو دے دیں۔ لیکن انصاف کے تقاضے پورے کریں تو پھر ایسے عہدیدار اللہ کے محبوب بن رہے ہوں گے جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔ رض حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور ان سے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔ (ترمذی ابواب الاحكام باب ماجاء في الامام العادل) یہاں حاکم تو نہیں ہیں لیکن عہدے بہر حال آپ کے سپر د کئے گئے ہیں ، ایک ذمہ واری آپ کے سپر د کئی گئی ہے۔ ایک دائرے میں آپ نگر ان بنائے گئے ہیں۔ پس یہ جو خدمت کے مواقع دیئے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دیئے گئے بلکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں۔ خلیفہ وقت کے فرائض کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ الله (ص 27) یعنی پس تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کر اور اپنی خواہش کی پیروی مت کر۔ وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ عہدیداران پر خلیفہ وقت نے اعتماد کیا ہے پس جب عہدیداران پر خلیفہ وقت نے اعتماد کیا ہے اور اُن سے انصاف کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے۔ کیونکہ ہر جگہ تو خلیفہ وقت کا ہر فیصلہ کے لئے پہنچنا مشکل