سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 133

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 113 کی حکم عدولی کرنے والے نہ ہوں۔ اور اسی طرح عہدیداران بھی اپنی اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی کے خلاف ایسی کارروائی نہ کریں جس سے ان کے عہدے کا ناجائز استعمال ظاہر ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کو موقع دیا ہے کہ وہ جماعتی عہدیدار بنایا گیا ہے اس پر خدا کا شکر کریں، نہ کہ اس وجہ سے گردنیں اکڑ جائیں اور تکبر اور رعونت پیدا ہو جائے۔ جماعتی عہدیداران کو اپنی عبادتوں میں بھی اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ایک نمونہ ہونا چاہیے۔ عاجزی اور انکساری کے بھی اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں۔ عدل اور انصاف کے بھی تمام تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔ پس جہاں ایک عام احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرے، صبر سے کام لے، ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق جماعت کا فرد بنے تاکہ دشمن کے ہنسی ٹھٹھا سے بھی بچے۔ کیونکہ جب احمدی اتنے دعووں کے بعد ایسی غلطیاں کرتا ہے تو دشمن کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے، مخالفین کے لئے جماعت پر انگلیاں اٹھانے کا باعث بنتا ہے اور کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی جماعت کی غیرت رکھتا ہے ایسی حرکتوں کی وجہ سے وہ احمدی جس نے دشمن کو ہنسی کا موقع دیا اللہ تعالیٰ کے قرب سے گر جاتا ہے۔ تو جب ایک عام احمدی کی ایسی حرکتوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تو جو عہدیدار ہیں وہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں زیادہ ہیں۔ اس لئے ان کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا اہل بنائے کہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کر سکیں۔“ ( خطبه جمعه فرموده 24 جون 2005 ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 375-384)