سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 132
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 112 بے جا غصہ اور غضب و غیرہ بالکل نہ ہو۔ میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کے اکثر لوگوں میں غصہ کا نقص اب تک موجود ہے۔ تھوڑی تھوڑی سی بات پر کینہ اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں لڑ جھگڑ پڑتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا جماعت میں سے کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں کیا دقت پیش آتی ہے کہ اگر کوئی گالی دے تو دوسرا چپ کر رہے اور اس کا جواب نہ دے۔ ہر ایک جماعت کی اصلاح اول اخلاق سے شروع ہوا کرتی ہے۔ چاہیے کہ ابتدا میں صبر سے تربیت میں ترقی کرے اور س رے اور سب سے عمدہ ، عمده ترکیب یہ ہے کہ اگر کوئی بد گوئی کرے تو اس کے لئے درد دل سے دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کر دیوے اور دل میں کینہ کو ہر گزنہ بڑھاوے۔ جیسے دنیا کے قانون ہیں ویسے خدا کا بھی قانون ہے۔ جب دنیا اپنے قانون کو نہیں چھوڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے قانون کو کیسے چھوڑے۔ پس جب تک تبدیلی نہ ہو گی تب تک تمہاری قدر اس کے نزدیک کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ ہر گز پسند نہیں کرتا کہ حلم اور صبر اور عفو جو کہ عمدہ صفات ہیں ان کی جگہ درندگی ہو۔ اگر تم ان صفات حسنہ میں ترقی کرو گے تو بہت جلد خدا تک پہنچ جاؤ گے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ جماعت کا ایک حصہ ابھی تک ان اخلاق میں کمزور ہے۔ ان باتوں سے صرف شماتت اعداء ہی نہیں ہے بلکہ ایسے لوگ خود بھی قرب کے مقام سے گرائے جاتے ہیں۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 99 البدر صفحه 3 تا 8 مورخہ 8 ستمبر 1904ء) عہدیداران کو اپنی عبادتوں میں بھی اور اعلیٰ اخلاق میں بھی ایک نمونہ ہونا چاہیے پس ہم میں سے ہر ایک اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں سے کہلا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد اعلیٰ اخلاق بھی اپنائے جائیں۔ دراصل تو اعلیٰ اخلاق بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کا ہی ایک حصہ ہیں۔ کیونکہ اعلیٰ اخلاق بھی تقویٰ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر اپنی محبت اور اس کے نتیجے میں تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جن برائیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے ان سے مکمل بچنے والے ہوں۔ اپنے دلوں کو کینوں اور بعضوں سے پاک کرنے والے ہوں۔ اپنی ذاتی رنجشوں کو جماعتی رنگ دینے والے نہ ہوں۔ کسی عہدیدار سے ذاتی عناد یار نجش کی وجہ سے اس عہدیدار