سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 134

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 114 کوئی ایسی بات سنیں جو جماعتی و قار یا خلافت کے احترام کے خلاف ہو تو فوری طور پر عہدیداران کو بتائیں یاد رکھیں جہاں محبت کرنے والے دل ہوتے ہیں وہاں فتنہ پیدا کرنے والے شیطان بھی ہوتے ہیں جو اس تعلق کو توڑنے یا اس تعلق میں رخنے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس ایسے لوگوں سے بھی آپ کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ اپنے ماحول پر نظر رکھنی ہے۔ کہیں سے بھی کوئی ایسی بات سنیں جو جماعتی و قار یا خلافت کے احترام کے خلاف ہو تو فوری طور پر عہدیداران کو بتائیں، امیر صاحب کو بتائیں، مجھے بتائیں۔ کیونکہ بعض دفعہ بظاہر بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اندر ہی اندر پکتی رہتی ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع کو خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ عہدیداران بھی اپنے اندر یہ عادت پیدا کریں کہ جب ایسی باتیں سنیں تو سن کر سرسری طور پر دیکھنے کی بجائے اس کی تحقیق کر لیا کریں، یا کم از کم نظر رکھا کریں۔ ایک دفعہ اگر سنی ہے تو ذہن میں رکھیں اور اگر دوبارہ سنیں تو بہر حال اس پر توجہ دینی چاہیے۔ امیر صاحب کو بتائیں پھر مجھے بھی بتائیں اسی واسطے سے، بعض دفعہ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ چھوٹی سی بات لگ رہی ہوتی ہے اس لئے کہ ہر ایک کو اس کے پس منظر کا، بیک گراؤنڈ کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس کی جڑیں کسی اور جگہ ہوتی ہیں۔ اس لئے کسی فتنے کو کبھی چھوٹا نہ سمجھیں، اگر کوئی ایسی بات ہے جو وقتی ہے، آپ کے نزدیک سطحی سی بات ہے، اور غصے میں کسی نے کہہ دی ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اور اِن وقتی شکایتوں اور شکووں کو دُور کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ اور عہدیداروں کی طرف سے بھی کی جانی چاہیے۔ عہدیداروں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور ایسی باتیں سننی چاہئیں تا کہ توجہ نہ دینا فرد جماعت اور عہدیداروں میں دوری پیدا کرنے کا باعث نہ بن جائے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا جب بھی کسی بات کا مجلسوں میں ذکر ہو رہا ہے اور پھر شرارت پھیلانے کی غرض سے ذکر ہو رہا ہے تو اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ بہر حال ہر صورت میں جب بھی آپ کوئی ایسی بات سنیں جس