سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 131

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 111 محبت حاصل کرنے کے لئے اور اپنے انجام بخیر کے لئے اور اس کے سایہ رحمت میں جگہ پانے کے لئے کرنی ہو گی۔ اور جلسے کے یہ دن اس بات کی طرف توجہ پیدا کرنے کے لئے ٹریننگ کے طور پر ہیں۔ اس کی ابتدا آج سے ہی ہو جانی چاہیے۔ آج سے ہی ہر دل میں یہ ارادہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں، اپنے معیار اونچے کرنے ہیں۔ جو ناراض ہیں وہ ایک دوسرے کو گلے لگائیں، جو روٹھے ہوئے ہیں وہ ایک دوسرے کو منائیں۔ جنہوں نے گلے شکوے دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں وہ ان گلوں شکووں کو اپنے دلوں سے نکال کر باہر پھینکیں۔ اور ان دنوں میں عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنے کی بھی ٹریننگ حاصل کریں۔ یہ عہد کریں کہ پرانی رنجشوں کو مٹا دیں گے۔ ایک دوسرے کے گلے اس نیت سے لگیں کہ پرانی رنجشوں کا ذکر نہیں کرنا۔ ایک دوسرے سے کی گئی زیادتیوں کو بھول جانا ہے۔ کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنی بلکہ حقیقی مومن بن کر رہنا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی گئی عبادتیں بھی قبولیت کا درجہ پائیں۔ اور اللہ کی خاطر اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کی گئی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگیاں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ پائیں۔ اور یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فرمودہ طریق کے مطابق مومن بن جائیں۔ تبھی ہم مومن بن سکتے ہیں جب یہ باتیں اپنے اندر پیدا کریں گے جن کے بارے میں ایک روایت میں اس طرح ذکر آتا ہے۔ حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مومنوں کو ان کے آپس کے رہن، محبت اور شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے تو اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔ (صحیح مسلم كتاب البر والصلة والادب باب تراحم المومنين وتعاطفهم ) ۔۔۔ پھر ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: دو اس جماعت کو تیار کرنے سے غرض یہی ہے کہ زبان ، کان، آنکھ اور ہر ایک عضو میں تقویٰ سرایت کر جاوے۔ تقویٰ کا نور اس کے اندر اور باہر ہو۔ اخلاق حسنہ کا اعلیٰ نمونہ ہو اور