سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 130
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 110 نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں ایک دوسرے کے لئے ایک نمونہ بن جائیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں ایک دوسرے کے لئے ایک نمونہ بن جائیں تو تقویٰ کا اعلیٰ معیار تبھی قائم ہو سکتا ہے جب پیار ، محبت اور عاجزی اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہو۔ کیونکہ جس میں اپنے بھائی کے لئے محبت نہیں اس میں تقویٰ بھی نہیں۔ جس میں انکسار نہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہے۔ جس دل میں اپنے بیوی بچوں کے لئے نرمی نہیں وہ بھی تقویٰ سے عاری ہے۔ جو بیوی یا خاوند ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔ جو عہدیدار اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔ غرض کہ جو دل بھی اپنی انا اور تکبر یا کسی بھی قسم کی بڑائی دل میں لئے ہوئے ہے وہ تقویٰ سے عاری ہے۔ جو بھی اپنے علم کے زعم میں دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے وہ تقویٰ سے خالی ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی عزت کرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں، ان کے حقوق ادا کرتے ہیں ، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں اور یہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے، صرف اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے اس کی مخلوق سے محبت پر بھی ان کو مجبور کیا ہے تو یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے بے انتہا انعام پانے والے ہیں۔“ عبادتوں کے ساتھ ساتھ محبتیں بانٹنے کی بھی ٹریننگ حاصل کریں ۔۔۔ یہ وہ روح ہے جو ہر احمدی کے دل میں پیدا ہونی چاہیے۔ کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد آپ ہی وہ قوم ہیں جن پر دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے ، اگر اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی خواہش ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہتے ہیں تو پھر اللہ کی مخلوق سے محبت بھی اس کی