سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 110

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 90 مربیان کو عزت کا مقام نہیں دیں گے تو آئندہ نسلوں میں پھر آپ کو واقفین زندگی اور مربیان تلاش کرنے بھی مشکل ہو جائیں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ واقفین نو کی تحریک کے تحت بہت سے واقفین نوبچے وقف کے میدان میں آرہے ہیں۔ لیکن جتنا جائزہ میں نے لیا ہے میرے خیال میں جتنے مبلغین کی ضرورت ہے اتنے اس میدان میں نہیں آ رہے دوسری فیلڈز (fields) میں جارہے ہیں۔ بہر حال جب مربی کو مقام دیا جائے گا، گھروں میں ان کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا، ان کی خدمات کو سراہا جائے گا تو یقینا ان ذکروں سے گھر میں بچوں میں بھی شوق پیدا ہو گا کہ ہم وقف کر کے مربی بنیں۔ تو اس لحاظ سے بھی عہدیداران کو خیال کرنا چاہیے۔ چھوٹے موٹے اختلافات کو ایشو (issue) نہیں بنالینا چاہیے جس سے دونوں طرف بے چینی پھیلنے کا اندیشہ ہو ۔۔۔ لوگوں کے لئے پیار اور محبت کے پر پھیلائیں ۔۔۔ اب عہدیداروں کو پھر میں یہ کہتا ہوں کہ لوگوں کے لئے پیار اور محبت کے پر پھیلائیں۔ خلیفہ وقت نے آپ پر اعتماد کیا ہے۔ اور آپ پر اعتماد کرتے ہوئے اس پیاری جماعت کو آپ کی نگرانی میں دیا ہے۔ ان کا خیال رکھیں۔ ہر ایک احمدی کو یہ احساس ہو کہ ہم محفوظ پروں کے نیچے ہیں۔ ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ بعض عہدیدار میں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ ان کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ پر عمل کرنا چاہیے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ (بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحك) تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔ بعض عہدیداروں کے متعلق شکوہ ہے کہ لوگ کسی کام کے لئے عہدیداروں کے پاس اپنے کام کا حرج کر کے جاتے ہیں تو بعض عہدیدار ، امراء بعض دفعہ مہینہ مہینہ نہیں ملتے۔ ہو سکتا