سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 111
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 91 ہے اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو کیونکہ شکایت کرنے والے بعض دفعہ مبالغہ بھی کر جاتے ہیں لیکن دنوں بھی کسی سے کیوں چکر لگوائے جائیں۔ اس لئے امراء کو چاہیے کہ وقت مقرر کریں کہ اس وقت دفتر ضرور حاضر ہوں گے اور پھر اس وقت میں لوگوں کی ضروریات پوری کریں۔ بعض امراء یہ کرتے ہیں کہ اپنے نمائندے بٹھا دیتے ہیں اور ان نمائندوں کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ فلاں فیصلہ بھی کرنا ہے۔ اب اگر اس فیصلے کے لئے جانا پڑے تو پھر ان کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ امراء خود جائیں یا پھر اپنے نمائندے کو پورے اختیار دیں کہ جو تم نے کرنا ہے کرو۔ سیاہ و سفید کے مالک ہو۔ پھر امیر بننے کی ضرورت ہی نہیں ہے پھر تو اسی کو امیر بنا دینا چاہیے۔ پھر مسکراتے ہوئے اور خوش دلی سے ملیں۔ جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کا معیار بڑا اونچا ہے۔ ہر احمدی، اگر امیر مسکرا کر ملتا ہے تو اس کی مسکراہٹ پر ہی خوش ہو جاتا ہے، چاہے کام ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا۔ معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو، اگر چہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی نیکی ہو۔ (مسلم کتاب البر والصلة باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء ) تو مسکرا کر ملنا اور بھائی کے جذبات کا خیال رکھنا بھی نیکی ہے۔ تو نیکیوں کا پلڑا تو جتنا بھی بھاری کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ اس لئے عہدیداران کو ، امراء کو خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ خلیفہ وقت کی اطاعت اسی صورت میں ہے جب نظام کے ہر عہدیدار کی اطاعت ہے اب میں افراد جماعت کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا نظام جماعت میں کیا کر دار ہونا چاہیے۔ پہلی بات یاد رکھیں کہ جتنے زیادہ افراد جماعت کے معیار اعلیٰ ہوں گے اتنے زیادہ عہدیداران کے معیار بھی اعلیٰ ہوں گے۔ پس ہر کوئی اپنے آپ کو دیکھے اور ان معیاروں کو اونچا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے فرائض یعنی ایک فرد جماعت کے عہدیدار کے لئے کہ اطاعت کرنی ہے اس کے بھی اعلیٰ نمونے دکھائیں۔ یہ نمونے جب آپ دکھا رہے ہوں گے تو اپنی نسلوں