سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 109

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 89 آئے تو وہ بہتر بات کر اور اپنی قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔(بخاری کتاب الاحکام ) یہی ہے کہ عہدیداران بھی بعض دفعہ قسم تو نہیں کھاتے لیکن بعض ضدیں ہوتی ہیں کہ یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہیے تو اگر جماعت کے مفاد میں ہو تو پھر تمہاری ضدیں یا تمہاری قسمیں زیادہ اہم نہیں ہیں۔ ان کو ختم کرو۔ یہ جماعت کے مفاد میں حائل نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اس طرح کام ہونا چاہیے جس طرح جماعت کے حق میں بہترین ہو۔ پھر ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔ اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو بد کا یا نہ کرو۔(صحیح البخاری کتاب العلم - باب ما كان النبي يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا) تو اصولی قواعد بھی اس لئے ہیں کہ صحیح سمت میں چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے بہتری اور آسانی پیدا کی جائے۔ تمہاری ضدیں، تمہاری قسمیں، تمہاری انائیں کبھی بھی کسی بات میں حائل نہ ہوں جس سے لوگ تنگ ہوں۔ اگر کوئی قاعدہ بن بھی گیا ہے یا کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہے اگر اس سے لوگ تنگ ہو رہے ہیں تو بدلا جا سکتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ تمہارے پاس خوشی کی خبروں اور محبت اور پیار کے پیغاموں کے لئے اکٹھے ہوا کریں نہ کہ تنگ ہونے کے لئے دور بھاگتے چلے جائیں۔ واقفین زندگی ۔۔۔ کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں میں بھی پھر دنیا میں ہر جگہ جماعتی عہدیداروں کی ایک یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مبلغین یا جتنے واقفین زندگی ہیں ان کا ادب اور احترام اپنے دل میں بھی پیدا کیا جائے اور لوگوں کے دلوں میں بھی۔ ان کی عزت کرنا اور کروانا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، حسب گنجائش اور توفیق ان کے جماعت کا اور لئے سہولتیں مہیا کرنا، یہ جماعت کا اور عہدیداران کا کام ہے تاکہ ان کے کام میں یکسوئی رہے۔ وہ ہے تاکہ ان کے کام میں ہوتی رہے۔ وہ اپنے کام کو بہتر طریقے سے کر سکیں۔ وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔ اگر