سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 106

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 86 طرح سمجھا نہیں ہوتا، ان کے لئے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے ان کے لئے بہت خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ تربیت کرنے کی جیسی آپ چھاپ لگا دیں گے بچوں پر بھی اور نئے آنے والوں پر بھی ، آئندہ نمونے بھی ویسے ہی نکلیں گے ، آئندہ عہدیدار بھی ویسے ہی بنیں گے۔ تو خلاصہ یہ کہ غصے کو دبانا ہے اور عفو سے کام لینا ہے در گزر سے کام لینا ہے۔ لیکن یہ نرمی بھی اس حد تک نہ ہو کہ جماعت میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔ ایسی صورت میں بہر حال اصلاح کی کوشش بھی کرنی ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ جو عادی نہیں ہیں ان کو تو معاف کر کے بھی اصلاح ہو سکتی ہے لیکن اگر جماعت میں فتنے کا خطرہ ہو تو پھر معافی کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اور پھر یہ ہے کہ اگر ایسی بات ہو تو نہ صرف مقامی طور پر اس کی اصلاح کرنی ہے بلکہ اس کی مرکز کو بھی اصلاح کرنی چاہیے۔ لیکن سختی ایسی نہ ہو ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جن کی اصلاح نرمی سے ہو سکتی ہے کہ وہ نوجوان اور نئے آنے والے دین سے ہی متنفر ہو جائیں۔ جو عہدہ بھی ملا ہے ۔۔۔ اس کو ایک فضل الہی سمجھیں پھر عہدیداروں میں جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر اپنے خلاف ہی شکایت ہو تو سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ ہمیشہ سچی بات کہنے سننے کرنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے جتنا بھی کوئی عزیز یا قریبی دوست ہو اگر اس کی صحیح شکایت پہنچتی ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے تو بہتر ہے کہ معذرت کر دیں کہ فلاں وجہ سے میں اس کام سے معذرت چاہتا ہوں۔ کیونکہ کسی ایک شخص کا کسی خدمت سے محروم ہونا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ پوری جماعت میں یا جماعت کے ایک حصے میں بے چینی پیدا کی جائے۔ یاد رکھیں جو عہدہ بھی ملا ہے چاہے وہ جماعتی عہدہ ہو یا ذیلی تنظیموں کا عہدہ ہو اس کو ایک فضل الہی سمجھیں۔ پہلے بھی بتا آیا ہوں اس کو اپنا حق نہ سمجھیں۔ یہ خدمت کا موقع ملا ہے تو حکم یہی ہے کہ جو لیڈر بنایا گیا ہے وہ قوم کا خادم بن کر خدمت کرے۔ صرف منہ سے کہنے کی حد تک نہیں۔ چار آدمی کھڑے ہوں تو کہہ دیا جی میں تو خادم ہوں بلکہ عملاً ہر بات سے ہر فعل سے یہ اظہار ہو تا ہو کہ یہ واقعی خدم ہوتا ہو کہ یہ واقعی خدمت کرنے والے ہیں