سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 105
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 85 جیسا کہ میں نے کہا باتوں سے اور جگالی کرتے رہنے سے یاد دہانی ہوتی رہتی ہے۔ بعض باتوں کی وضاحت ہو جاتی ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ مزید ذرا وضاحت کھول کر کر دی جائے۔ مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنائیں پہلی بات تو یہ ہے کہ عہدیدار اس بات عہدیدار اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم فرمایا ہے کہ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران:135) یعنی غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہوں۔ تو اس کے سب سے زیادہ مخاطب عہدیداروں کو اپنے آپ کو سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ ان کی جماعت میں جو پوزیشن ہے جو ان کا نمونہ جماعت کے سامنے ہونا چاہیے وہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو عاجز بنائیں۔ اگر اصلاح کی خاطر کبھی غصے کا اظہار کرنے کی ضرورت پیش بھی آجائے تو علیحد گی میں جس کی اصلاح کرنی مقصود ہو، جس کا سمجھانا مقصود ہو اس کو سمجھا دینا چاہیے۔ تمام لوگوں کے سامنے کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرنا چاہیے اور ہر وقت چڑ چڑے پن کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ یا کسی بھی قسم کے تکبر کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اصلاح کبھی چڑنے سے نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی سے درد رکھتے ہوئے اور دعا کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جانے سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے۔ اور ایک آدھ دفعہ کی جو غلطی ہے ، اگر کوئی عادی نہیں ہے تو اصلاح کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ عفو سے کام لیا جائے۔ معاف کر دیا جائے ، در گزر کر دیا جائے۔ لوگوں سے پیار اور محبت کا سلوک کیا کریں اس لئے یہاں بھی اور دنیا میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں ، جماعتی عہدیدار بھی اور ذیلی تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنے رویوں میں ایک تبدیلی پیدا کریں۔ لوگوں سے پیار اور محبت کا سلوک کیا کریں۔ خاص طور پر بعض جگہ لجہ کی طرف سے شکایات زیادہ ہوتی ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر بچیوں یا نوجوان بچیوں اور نئے آنے والیوں جنہوں نے نظام کو پوری