سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 107

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 87 اور اگر اس نظریے سے بات نہیں کہہ رہے تو یقینا پوچھے جائیں گے ۔ جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کو پوری طرح ادانہ کرنے کی وجہ سے یقینا جواب طلبی ہو گی۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت معقل بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا نگران اور ذمہ دار بنایا ہے وہ اگر لوگوں کی نگرانی اور اپنے فرائض کی ادائیگی اور ان کی خیر خواہی میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کے مرنے پر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت حرام کر دے گا۔ اور اسے بہشت نصیب نہیں کرے گا۔ (مسلم کتاب الايمان - باب استحقاق الوالى الغاش لرعية النار ) اب دیکھیں اس انذار کے بعد کون ہے جو بڑھ بڑھ کر اختیارات کو حاصل کرنے کی خواہش کرے یا عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش کرے۔ یہ تو ایسا خوف کا مقام ہے کہ اگر صحیح فہم اور ادراک ہو تو انسان ایک کونے میں لگ کے بیٹھ جائے۔ پس عہدیدار اس فضل الہی کی قدر کریں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا غضب لینے کی بجائے اس کی محبت حاصل کرنے والے بنیں۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو سعیدہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب اور اس کے زیادہ قریب انصاف پسند حاکم ہو گا اور سخت ناپسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہو گا۔ (ترمذی ابواب الاحكام باب في الامام العادل) پس سب کو چاہیے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محبوب بنیں اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے وہ طریقے اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے رسول نے بتائے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے ابوالحسن بیار بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن مرہ ۔ مرہ نے حضرت معاویہ سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو امام حاجتمندوں، ناداروں غریبوں کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضروریات رض