سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 104
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 84 پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا افراد جماعت کو بھی اور عہدیداران کو بھی یہ توجہ دلائی ہے کہ اس کے بعد بھی دعاؤں میں لگے رہو۔ ہر عہدیدار انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ سے دعا مانگے کہ وہ اسے ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر فرد جماعت یہ دعا کرے کہ جو عہدیدار منتخب ہوئے ہیں وہ ہمیشہ اس امانت کے ادا کرنے کے حق کو اس کے مطابق ادا کرتے رہیں۔ اور کبھی کوئی مشکل نہ آئے، کبھی کوئی ابتلاء نہ آئے جو عہدیدار اور افراد جماعت کے لئے کسی بھی قسم کی ٹھوکر کا باعث بنے۔ اگر اللہ تعالیٰ سمجھتا ہے کہ یہ عہدیدار جو انہوں نے منتخب کیا ہے وہ پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض ادا نہیں کر رہا تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایسے انتظامات فرمائے کہ اسے بدل دے تا کہ کبھی نظام جماعت پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس طرح دونوں مل کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری اس نیک نیت سے کی گئی دعاؤں کو سنے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے دین کے لئے اور دین کی خدمت کرنے والوں پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔ وہ بڑی گہری نظر رکھتا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے ، وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔ وہ اس درد کی وجہ سے جو تمہارے دل میں ہے ہمیشہ بہتری کے سامان پیدا فرماتا رہے گا اور ہمیشہ تمہیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہر قسم کی ٹھوکر سے بچائے۔ افرادِ جماعت عہدیداروں سے کیسا رویہ رکھیں؟ اب میں ذرا وضاحت سے عہدیداران کا احباب جماعت سے کس قسم کا رویہ یا سلوک ہونا چاہیے اس کے بارے میں کچھ بتاؤں گا۔ اور پھر احباب جماعت، افراد جماعت عہدیداروں سے کیسا رویہ رکھیں۔ عہدیداروں کو تو ایک اصولی ہدایت قرآن نے دے دی ہے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرنے ہیں۔ اگر کوئی غور کرے اور سوچے کہ انصاف کے کیا کیا تقاضے ہیں تو اس کے بعد کچھ بات رہ نہیں جاتی۔ لیکن ہر کوئی اس طرح گہری نظر سے سوچتا نہیں۔ اس طرح سوچا جائے جس طرح ایک تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والا سوچتا ہے تو پھر تو اس کی یہ سوچ کر ہی روح فنا ہو جاتی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔ لیکن نصیحت کیونکہ فائدہ دیتی ہے