سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 103
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 83 دوست یا عزیز کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی شخص کے حق میں ہلکا سا بھی اشارہ یا کنایہ اظہار کرے کہ اس کو ووٹ دیا جائے۔ اگر نظام جماعت کو پتہ چل جاتا ہے تو پھر جس کے حق میں پہلے پر اپیگنڈہ کیا گیا ہے اس کو بھی اور جو پراپیگنڈہ کرنے والا ہے یا جس نے کوئی بات کسی کے لئے کہی ہو انتخابات سے پہلے ، اس کو بھی انتخابات میں شامل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس حق سے محروم کیا جا سکتا ہے اور کر بھی دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ جو جماعت کے انتخاب ہیں ان کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے خدمت گزاروں کی ٹیم چننے والا تصور کر کے انتخاب کرنا چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منتخب عہدیداران کی ذمہ داری بھی لگائی ہے کہ تمہیں جب منتخب کر لیا جائے تو پھر اس کو قومی امانت سمجھو۔ اس امانت کا حق ادا کرو۔ اپنی پوری استعدادوں کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھاؤ۔ اپنے وقت میں سے بھی اس ذمہ داری کے لئے وقت دو۔ جماعتی ترقی کے لئے نئے نئے راستے تلاش کرو۔ اور تمہارے فیصلے انصاف اور عدل کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ کبھی تمہاری ذاتی انا، رشتہ داریوں یا دوستیوں کا پاس انصاف سے دور لے جانے والا نہ ہو۔ کبھی کسی عہدیدار کے دل میں یہ خیال نہ آئے کہ فلاں شخص نے مجھے ووٹ نہیں دیا تھا۔ یا فلاں کا نام میرے مقابلے کے لئے پیش ہوا تھا اس لئے مجھے کبھی موقع ملا، کبھی کسی معاملے میں تو اس کو بھی تنگ کروں گا۔ یہ مومنانہ شان نہیں ہے بلکہ انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔ ہر عہدیدار انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اللہ سے دعامانگے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی ہے یہ ایسی نصیحت ہے کہ تم دونوں، ووٹ دے کر منتخب کرنے والوں اور عہدیداروں، دونوں کے لئے بڑی اعلیٰ نصیحت ہے کہ ووٹ دینے والا سوچ سمجھ کر ووٹ دے اور جو شخص منتخب ہو جائے وہ بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہر عہدیدار کو ، چاہے وہ جماعتی عہدیدار ہوں یا ذیلی تنظیموں کے عہدیدار ہوں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔