سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 102
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 82 اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقینا بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے یقینا اللہ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے۔ اُن لوگوں کو منتخب کرو جو اس کے اہل ہوں پہلی بات تو یہ کہ عہدیدار چننے والوں کو فرمایا کہ عہدے اُن کو دو، اُن لوگوں کو منتخب کرو جو اس کے اہل ہوں، اس قابل ہوں کہ جس کام کے لئے انہیں منتخب کر رہے ہو وہ اس کو کر سکیں، وقت دے سکیں۔ یہ نہیں کہ چونکہ تمہارے تعلقات ہیں ، اس لئے ضرور اس عہدے کے لئے اسی کو منتخب کرنا ہے یا ضرور اسی کو اس عہدے کے لئے ووٹ دینا ہے۔ اس میں ایک بہت بڑی ذمہ داری چناؤ کرنے والوں پر ، منتخب کرنے والوں پر ڈالی گئی ہے۔ اس لئے جو ووٹ دینے کے جماعتی قواعد کے تحت حقدار ہیں، ہر ممبر تو ووٹ نہیں دیتا۔ جو بھی ووٹ دینے کا حقدار ہے ان کو ہمیشہ دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہیے کہ جو بہتر ہو اس کو ووٹ دے سکے۔ یہاں ضمنا یہ بھی بتادوں کہ بعض دفعہ بعض افراد پر کسی وجہ سے پابندی لگی ہوتی ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس لئے اس بارے میں ضد نہیں کرنی چاہیے کہ کیونکہ ہمارے نزدیک فلاں شخص ہی اس کام کے لئے موزوں تھا یا موزوں ہے اس لئے اسی کو ہم نے ووٹ دینا تھا اور اس کی اجازت دی جائے ورنہ ہم انتخاب میں شامل نہیں ہوتے۔ یہ غلط طریق ہے۔ اطاعت کا تقاضا یہ ہے اور نظام جماعت کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کوئی فیصلہ ہو گیا ہے کہ کسی شخص کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر اس بارے میں اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ جو خدمت کا موقع ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے ۔۔۔ اور یہ بھی ذہن میں رہے، منتخب کرنے والوں کے اور جو منتخب ہو رہے ہیں ان کے بھی، بعض دفعہ لمبا عرصہ کر کے بعض ذہنوں میں باتیں آجاتی ہیں، کہ کوئی عہدہ جماعت میں کسی کا پیدائشی حق نہیں ہے، کوئی مستقل حق نہیں ہے۔ اس لئے جو خدمت کا موقع ملتا ہے وہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ کا فضل ہو تو اللہ تعالیٰ خود ہی خدمت کا موقع دے دیتا ہے۔ خود کبھی خواہش نہیں کرنی۔ اس لئے اشارہ بھی کبھی کسی قسم کا یہ اظہار نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے عہدیدار بناؤ۔ نہ کسی کے